جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 358 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 358

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 358 تشریف لے آئے اور عبد الخالق نے کہا کہ وہ میاں صاحب تشریف لا رہے ہیں۔میں نے بھی جب گھوم کر دیکھا تو ایک قد آور نو جوان حسین اور منور اور جلالی چہرہ نظر آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں عبد الخالق نے جواب دیا کہ یہی وہ میاں طاہر احمد صاحب ہیں۔جب میں نے قدرے اپنی ایڑی کو اٹھا کر دیکھا کہ آپ کے دونوں طرف کڑیل اور بہت بڑے بڑے اور بہت پھولے ہوئے شیر بھی دیکھے جو کہ آپ کے دائیں بائیں چل رہے تھے اور عوام کے ہجوم کو دیکھ کر کچھ غراتے بھی تھے تو میاں صاحب نے ان شیروں کو منع کیا کہ خبر دار ہم تو اسلام کو پھیلانے کے لئے آئے ہیں نہ کہ مٹانے کے لئے اور اگر تم ان کو غراتے رہے تو یہ جو اتنی عوام یہاں پر اکھٹی ہوئی ہے یہ خوف کھا کر بھاگ جائے گی اور میں ان کو اسلام کے متعلق کچھ نہیں بتا سکوں گا۔میاں صاحب کے اتنے کہنے پر وہ دونوں شیر خاموش اور پیار بھری نظروں سے چلنے لگے اور اس اسٹیج تک پہنچ گئے تو میاں صاحب اسلام کی باتیں لوگوں کو بتانے لگے۔میں نے عبدالخالق سے سوال کیا کہ یہ مرزائی یا احمدی ہیں آپ نے جواب دیا کہ یہ صاحب تو دین کے ستون ہیں اور یہاں پر جتنے عوام اکھٹے ہوئے ہیں سب احمدی ہیں صرف تم ہی احمدی نہیں ہو۔میں نے پھر سوال کیا کہ لوگ تو احمدیوں کو کافر کہتے ہیں۔تو اس نے جواب دیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی لوگ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر اور کئی کئی القاب سے پکارتے تھے لیکن جو بات حقیقت ہو وہ ہمیشہ بری معلوم ہوتی ہے۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔