جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 355
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 355 ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ سے پیار حاصل کروں۔چنانچہ میں اپنی گردن جھکا کر حضور کے آگے رکھتا ہوں اور وہ دونوں ہاتھوں کو میرے سر پر رکھتے ہیں۔مجھے اُس پیار سے اس قدر خوشی ہوتی ہے جو کہ بیان سے باہر ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ میرے سر سے گرمی جاتی رہی ہے۔اس کے بعد حضرت میاں طاہر احمد صاحب نوٹس لے کر نیچے بیت مبارک میں تقریر کرنے کے لیے تشریف لے جاتے ہیں۔iii۔مورخہ 13 اور 14 / دسمبر 1977 ء بروز منگل اور بدھ کی درمیانی رات صبح 4 اور 5 ہے کے درمیان خواب میں دیکھا۔جیسا کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب جن کی داڑھی سفید، لمبی اور بالکل حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ) کے مشابہ ہے۔مائیک پر تشریف لائے ہیں اور چند فقرات کہے ہیں کیونکہ تقریر پر بندش کے نتیجہ میں آپ مائیک پر تقریر نہیں کر سکے۔ایسا احساس ہوتا ہے کہ فوجی حکومت نے حضرت میاں صاحب کو حراست میں لیا ہوا ہے۔جلسہ کی صورت میں کافی لوگ بیٹھے ہیں۔حضرت میاں صاحب نے مائیک پر کھڑے ہو کر خاموش دُعا کرائی ہے۔میری طرف کے کچھ لوگ کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے ہیں اور میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں۔دیگر حاضرین جلسہ بیٹھ کر دعا کرتے ہیں ہم چند آدمی بھی بیٹھ جاتے ہیں وہ دعا کا منظر نہایت ہی عجیب ہے۔iv۔مورخہ 25 اور 26 اپریل 1982ء بروز اتوار سوموار کی درمیانی رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی مکان میں تشریف فرما ہیں۔وہاں ایک کمرہ میں حضور چند احباب سے گفتگو فرما رہے ہیں۔اُن افراد میں مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب بھی ہیں۔میں جیسا کہ بیٹھک والے کمرہ میں ہوں۔وہاں پر اپنی ہمشیرہ مبارکہ امتہ السلام کو کہتا ہوں کہ حضوڑ تھک گئے ہوں گے اس لیے انہیں بلوا کر دبایا جائے۔چنانچہ حضوڑ ہمارے کہے بغیر ہی بیٹھک میں تشریف لے آئے تو مبارکہ نے حضور کے پاؤں دبانے شروع کر دیئے۔حضور نے