جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 344 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 344

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 344 ہیں۔جلسہ کی صورت ہے۔اسٹیج پر جلسہ کی صدارت حضرت خلیفہ البیع الثانی نوراللہ مرقدہ فرما رہے ہیں اور تقریر صاحبزادہ میاں رفیع احمد صاحب کر رہے ہیں۔تقریر کے دوران وہ کسی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نور اللہ مرقدہ ان کو ٹوکتے ہوئے کہتے ہیں نہیں ایسا نہیں " جواب میں میاں رفیع احمد صاحب کہتے ہیں۔نہیں حضور ایسا ہی ہے اور پھر تفسیر دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ پھر فرماتے ہیں " نہیں ایسا نہیں " جواب میں میاں رفیع کہتے ہیں " نہیں حضور ایسا ہی ہے " اور پھر وہی تقریر دہرانا شروع کر دیتے ہی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کسی قدر غصہ کے لہجہ میں فرماتے ہیں " میں جو کہتا ہوں کہ ایسا نہیں " جواب میں پھر میاں رفیع احمد صاحب کہتے ہیں کہ " نہیں حضور ایسا ہی ہے اور پھر وہی تفسیر دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ انتہائی غصہ میں فرماتے ہیں "اگر تم باز نہیں آؤ گے تو میں تمہیں بٹھا دوں گا" اس پر جلسہ برخواست ہو جاتا ہے اور سب احمدی احباب گھروں کولوٹ جاتے ہیں۔میں بھی اپنے گھر جا رہا ہوتا ہوں۔تو مجھے کچھ احمدیوں کی جو میرے پیچھے پیچھے آرہے ہوتے ہیں آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں آتی ہیں۔میں ان کی گفتگو سننے کے لئے رک جاتا ہوں۔وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "میاں طاہر احمد صاحب کا پھر کچھ اور ہی مقام ہے اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔میرا یہ خواب میرے والد محترم قاضی محمود احمد صاحب مالک محبوب عالم اینڈ سنز دی راجپوت سائیکل ورکس نیلا گنبد لاہور نے 1966ء میں ہی حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کی خدمت میں تحریر کر دیا تھا۔تاریخ تحریر 24 جون 1982ء)