جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 204
خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے۔204 یوں معلوم ہوا کہ مولا کریم آ گیا ہے۔اور میں نے اس کے پاؤں پکڑے ہوئے ہیں میں اپناسر بوجہ انتہائی رقت کے آہستہ آہستہ اس کے چہرے کی طرف اُٹھا تا ہوں۔تو کیا دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ہیں اس سے مجھے وہ نکتہ جو اسجد آدم میں ہے حل ہو گیا۔چنانچہ میں نے حضور کو بیعت کا خط لکھا۔دراصل یہ حضور اقدس کی توجہ ہی تھی کہ میں دہریت اور پیغامیت سے نکل کر صحیح منزل پر پہنچ گیا۔" (الفضل 07 ستمبر 1956ء) ۶۳ مکرم مرزا احمد بیگ صاحب ریٹائر ڈانکم ٹیکس آفیسر کا خواب " مجھے منکرین خلافت کے نئے گروہ، مرکزی حقیقت پسند پارٹی کی طرف سے ایک اپیل موصول ہوئی ہے جس میں اپنی اغراض باطلہ میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے۔مجھے تو احمدیت کی نعمت حضرت محمود کے طفیل نصیب ہوئی تھی میرے ننھیال قادیان میں تھے۔اور میں بچپن کے زمانہ میں قادیان میں ہی رہا۔فروری1895ء میں مجھے پانچویں جماعت میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں حضرت محمود کا ہم سبق ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اسی پاک صحبت میں مجھے احمدیت کے متعلق علم حاصل ہوا۔آج اس واقعہ کو ساٹھواں سال جارہا ہے سالہا سال مجھے حضور کے ساتھ پہلو بہ پہلو بیٹھنے کا فخر حاصل رہا۔میں نے حضور کے ساتھ 1905ء میں انٹرنس کا امتحان دیا۔میں نے حضور کا بچپن دیکھا ، جوانی دیکھی اور اب بڑھاپا بھی دیکھا۔حضور کی زندگی کے یہ تینوں دور حضور کی صداقت