جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 104 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 104

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 104 کہتے ہوئے سیدھے چلے جانا ان کی غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اگر تم ان کی طرف متوجہ ہو گئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے اس لئے اپنے کام میں لگے جاؤ۔چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل ہے اور ڈراور خوف کے بہت سے سامان جمع تھے اور جنگل بالکل سنسان تھا۔جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا جو بہت ہی بھیانک تھا تو بعض لوگ آئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا تب مجھے معا خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے ہوئے چلے جانا اس پر میں نے بلند آواز سے یہ فقرہ کہنا شروع کیا اور وہ لوگ چلے گئے اس کے بعد پھر پہلے سے بھی خطرناک راستہ آیا اور پہلے سے بھی زیادہ بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں حتی کے بعض سر کٹے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے ہوا میں معلق میرے سامنے آئے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے اور چھیڑتے۔مجھے غصہ آیا لیکن معافرشتہ کی نصیحت یاد آجاتی اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے "خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہنے لگتا۔اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا یہاں تک کہ سب بلائیں دور ہو گئیں اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔یہ رویاء میں نے 1912ء میں اگست یا ستمبر میں بمقام شملہ دیکھا تھا اور شملہ میں خواب دیکھنے کا شاید یہ بھی مطلب ہو کہ حکومت کے بعض ارکان کی طرف سے بھی ہماری مخالفت ہوگی اس رویاء کو آج کچھ ماہ کم 22 سال ہو گئے ہیں۔اس دن سے جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو اس کے اوپر " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ "ضرور لکھتا ہوں۔" (الفضل 17 اپریل 1935ء) اسی رؤیا کے حوالہ سے ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا: " یہ رویا حضرت خلیفتہ امیج اول کی زندگی میں 1913ء کے شروع میں میں نے دیکھا تھا اس وقت میں نے سمجھا کہ میری زندگی میں کوئی تغیر پیدا ہونے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف