جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 85 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 85

خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 85 تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔اٹھتر (78) برس تک انہوں نے خلافت کی۔بائیس برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یادرکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص ( خطبات نور صفحہ 453) بھلائی کے لئے کہی ہے۔اس ضمن میں ماسٹر برکت علی صاحب مسجد روڈ جڑانوالہ ضلع فیصل آباد کا درج ذیل محط ملاحظہ ہو جو آپ نے اپنے مطاع حضرت خلیفہ امسیح الثانی کو لکھا۔" خاکسار بمعہ اپنے خاندان کے جملہ ممبران کے اپنی اطاعت اور عقیدت اور خلافت حقہ کے ساتھ دائمی وابستگی کے متعلق 25 جولائی کو خدمت اقدس میں عرض کر چکا ہے۔ان لوگوں پر آج کل کے چھوکروں کے پراپیگنڈے کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔جو آپ کی خلافت اور آپ کی ذات پر صفات پر تخت خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے ہی حسن عقیدت رکھتے تھے۔چنانچہ 1909ء کے اواخر میں جبکہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب امرتسر سول ہسپتال کے انچارج تھے۔لدھیانہ خبر پہنچی کہ حضرت میاں صاحب ( حضور ) امرتسر تشریف لائے ہوئے ہیں۔اس خبر فرحت اثر کے ملتے ہی میں اور ماسٹر قادر بخش صاحب مرحوم امرتسر محض زیارت اور نیاز حاصل کرنے کی غرض سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ذاتی عقیدت کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کی زبان معرفت ترجمان سے ایک کام کی بابت خاکسار سن چکا تھا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ 1911ء کے جلسہ سالانہ پر خاکسار قادیان گیا تھا اس جلسہ پر حضور نے "اتقا" پر پر معارف تقریر فرمائی تھی یہ وہی جلسہ تھا جس میں مولوی صدرالدین صاحب نے اپنی تقریر کے دوران حضرت خلیفہ اول کی طرف اشارہ کر کے ( جو محراب میں تشریف فرما تھے ) یہ تاریخی فقرہ استعمال فرمایا تھا کہ تم لوگ ساڑھے تیرہ سو سال پیچھے کیوں جاتے ہو وہ دیکھو تمہارے سامنے زندہ ابوبکر بیٹھا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے جلسہ کے تینوں روز" وَ اعْتَصِمُو بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا" کے موضوع پر تقریر فرمائی تھی۔درمیانے دن اکابرین لاہور میں سے ایک فرد کا نام لے