جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 657
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 657 پھر آنکھ لگ جاتی ہے پھر اس سے ملتا جلتا نظارہ نظر آتا ہے کہ دور دور تک نیلا آسمان پھیلا ہوا ہے اور اس پر تاحد نظر بڑے سائز میں لکھا ہوا ہے " مرزا مسرور احمد " اور اس دفعہ یہ نظارہ میری آنکھوں کے بالکل سامنے بہت واضح تھا اور خواب میں ہی محسوس کرتا ہوں کہ جیسے بہت بڑا پارک ہے اور اس میں لوگوں کا مجمع ہے۔میں آگے آگے بڑھتا جاتا ہوں اور ساتھ ساتھ آسمان پر متواتر بڑا بڑا " مرزا مسرور احمد " نظر آرہا ہے اور یہ نظارہ کافی دیر تک دیکھتار ہتا ہوں حتی کہ آنکھ کھل جاتی ہے اور میں اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں تو رات کا پونے ایک بجا ہے۔میری بیگم اور بیٹیاں TV لاؤنج میں MTA دیکھ رہی ہیں۔میں نے اپنی بیگم کو کمرہ سے آواز دی اور کہا کہ مجھے رسالہ انصار اللہ کا وہ شمارہ لا دیں جو " حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد " نمبر ہے۔اتنے میں اُٹھ کرٹی وی لاؤنج میں آجاتا ہوں۔تھوڑی دیر میں میری بیگم وہ شمارہ لائیں جس میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کا خطبہ جمعہ 12 دسمبر 97ء کا تھا۔میں نے اُسے غور سے بار بار پڑھا جہاں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کشف سنایا کہ "ہم چلتے ہیں اب تو میری جگہ بیٹھ " یہ پڑھ کر میں نے اپنی بیگم اور بچیوں کو اپنا یہ خواب سنایا کہ دو مرتبہ میں نے آسمان پر "مرزا مسرور احمد " لکھا ہوا دیکھا ہے اور ساتھ ہی خطبہ کا وہ حصہ پڑھ کر سنایا جس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے "ہم چلتے ہیں تو میری جگہ آکر بیٹھ جا" میری بیگم نے کہا کہ آپ کیا کرتے ہیں انتخاب سے پہلے ایسی باتیں نہ کریں۔صبح اپنے ڈرائنگ روم کی میز پر انصار اللہ کا وہ شمارہ بھی رکھ دیا اور TV بھی ڈرائنگ روم میں لگا دیا تا حلقہ کے احباب خطبہ سننے کی طرح میرے گھر آکر حضور ( رحمہ اللہ ) کے چہرہ مبارک کی زیارت MTA پر کرسکیں۔سارے دن احباب و خواتین آتے رہے۔بعض نے رسالہ میں سے خطبہ بھی پڑھا اور ہمارے صدر حلقہ کرنل امتیاز مہار صاحب وہ رسالہ اپنے گھر والوں کو پڑھانے کے لئے کچھ دیر کے لئے لے گئے۔