جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 587 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 587

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۹۵ مکرم منیر ذوالفقار چوہدری صاحب ناصر آباد فارم میر پور خاص سندھ 587 خاکسار نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کے آخری دور میں ایک دن خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع وعریض مکان ہے جس کے کئی کمرے اور محن ہے۔مقام ناصر آباد فارم سندھ ہے اور محسوس ہو رہا ہے کہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) دورہ پر ناصر آباد سندھ تشریف لائے ہوئے ہیں۔اور ایک کمرہ میں قیام پذیر ہیں۔باہر صحن میں خاکسار ، حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بحیثیت انچارج ناصر آباد فارم، محترم سید محمود احمد شاہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان اور حضرت بیگم صاحبہ محترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کھڑے کسی موضوع پر باتیں کر رہے ہیں۔خاکسار نے حضرت میاں مسرور احمد صاحب سے عرض کیا کہ حضور کو ناصر آباد کا دورہ کرتے ہوئے آج کئی دن ہو گئے ہیں۔لیکن حضور انور نے باغ کا معائنہ نہیں فرمایا۔اتنی دیر میں کمرے سے حضور کی بلند آواز سنائی دی فرمایا۔" منیر آج باغ کا معائنہ ہوگا باہر اطلاع کروا دو۔لہذا حضور خلافت کے پورے لباس مبارک کے ساتھ باہر تشریف لائے جہاں ہم صحن میں کھڑے تھے اور آتے ہی خاکسار سے دریافت فرمایا کہ آج کل کون سا سن ہجری شمسی ہے میں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا کہ حضور مجھے یاد نہیں۔پھر سید محمودشاہ صاحب سے پوچھا کہ کون ساسن ہے انہوں نے جو بتایا حضور نے فرمایا کہ میچ نہیں۔اس کے ساتھ ہی حضرت سیدہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے کہا کہ حضور میں بتاتی ہوں تو انہوں نے جوس ہجری شمسی بتایا۔حضور نے اس کو صحیح قرار دیا۔اس کے بعد باغ کے معائنہ کے لئے روانہ ہوئے سڑک پر چلتے ہوئے یہ ترتیب تھی دائیں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب پھر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) حضور کے ساتھ سید محمود احمد شاہ صاحب اور آخر پر بائیں طرف خاکسار۔سڑک پر چلتے ہوئے حضور باغ سے متعلقہ مختلف امور کے بارہ