جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 575 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 575

خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے 575 اور حضور کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہوں۔کچھ دیر چلنے کے بعد حضور حضرت صاحبزادہ مرز امنصور احمد صاحب کے مین گیٹ سے اندر گھر جانے کے لئے مڑتے ہیں تو مجھ سے فرماتے ہیں تم یہیں انتظار کرو میں وضو کر کے آتا ہوں۔میں گیٹ کے اندر کی جگہ پر انتظار کرتے ہوئے کبھی ٹہلتا ہوں اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہوں۔کچھ دیر کے بعد دوسرے دروازے جو کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے عقبی صحن کی طرف سے جہاں کچن وغیرہ ہے سے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ہلکے سلیٹی رنگ کی شلوار قمیض پر ہاف کوٹ زیب تن کئے ہوئے سر پر ٹوپی رکھے باہر تشریف لاتے ہیں۔میں وہاں اکیلا ہی کھڑا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہے تو حضرت صاحبزادہ مرز امسرور احمد صاحب مجھ سے فرماتے ہیں۔قریشی صاحب آئیں نماز کے لئے چلیں۔میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ چل پڑتا ہوں اور راستہ میں یہ سوچتا جاتا ہوں کہ وضو لئے تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع (رحمہ اللہ ) اندر تشریف لے گئے تھے لیکن نماز پڑھانے کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب تشریف لے جارہے ہیں۔لیکن ادب کی وجہ سے صاحبزادہ صاحب سے کچھ پوچھ نہ سکا۔صاحبزادہ نے جا کر نماز کی امامت کروائی اور سب لوگ جو وہاں جمع تھے نے نماز ادا کی۔اس کے بعد سب احباب خاموشی سے چلے گئے اور میں احباب کو جاتا دیکھ رہا ہوں اور اس امامت پر غور کر رہا ہوں اس دوران ہی میری آنکھ کھل گئی۔فجر کی نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر میں خواب کے بارہ میں سوچ رہا تھا کہ فوری تفہیم ہوئی کہ آئندہ خلافت کی رداء حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو پہنائی جائے گی۔میں نے کئی بار سوچا کہ آپ کو یہ خواب جا کر بتاؤں لیکن آپ کے دفتر کے دروازہ سے واپس آ گیا یہ سوچ کر کہ ابھی حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ( رحمہ اللہ) کی رحلت کو دل قبول نہیں کرتا۔مگر خدا کے لکھے نوشتے پورے ہوتے ہیں۔آپ کا قریباً چار ماہ بعد انتقال پر ملال ہو گیا۔جب ربوہ سے قافلہ لندن کے لئے روانہ ہونے لگا تو اس دعا میں میں بھی شریک تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب