جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 536
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -i ۴۷ مکرم انجینئر محمد مجیب اصغر صاحب سابق امیراٹک و مظفر گڑھ حال ربوہ 536 جن دنوں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی بچی کی شادی سندھ خاندان میں ہو رہی تھی اور خاکسار بھی رخصتی کی تقریب میں اپنے بڑے بھائی پروفیسر محمد عبداللطیف شاہد صاحب کے ساتھ مدعو تھا اور اس وقت آپ ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی کے عہدوں پر سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع ( رحمہ اللہ) کی طرف سے فائز ہو چکے تھے۔خاکسار نے خواب دیکھی کہ سندھی ساماحول ہے۔یعنی آپ کے پاس کچھ سندھی احباب بھی موجود ہیں۔اور آپ کے گلے میں ایک کافی لمبا سنہری خوبصورت سا ہار ہے جو عموماً شادی کے موقع پر یا کسی خاص خوشی کی تقریب میں پہنا دیا جاتا ہے اور کہا جارہا ہے۔یہ (سید نا مرزا مسرور احمد صاحب ) اگلے خلیفہ اسیح ہوں گے۔اس موقعہ پر دیکھا کہ آپ کی چھوٹی چھوٹی داڑھی ہے اور غالباً سر پر پگڑی بھی ہے حالانکہ آپ خلافت سے پہلے سر پر ٹوپی پہنتے تھے۔-ii خلافت ثالثہ کے آخر یا خلافت رابعہ کے آغاز میں خاکسار نے ایک خواب دیکھا کہ خلافت کا انتخاب بیت اقصیٰ ربوہ میں ہو رہا ہے اور عجیب تر یہ کہ خاکسار بھی انتخاب خلافت کمیٹی میں شامل ہے اور اس مبارک تقریب میں موجود ہے۔اسوقت خاکسار مجلس خدام الاحمدیہ اسلام آباد کا قائد تھا اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کے وصال کے وقت خاکسار اٹک میں تھا اور غازی برو تھا، ہائیڈرو پاور پروجیکٹ نیسپاک کی طرف سے ریذیڈنٹ انجینئر کے طور پر کام کر رہا تھا اور فیملی ربوہ میں تھی اور عموماً alternate weekend پر خاکسارر بوہ کا چکر لگاتا تھا۔خاکسار 19 اپریل 2003ء بروز ہفتہ نماز مغرب کے بعد ربوہ پہنچا تو حضرت خلیفہ المسح الرابع (رحمہ اللہ ) کی دلوں کو ہلا دینے والی وفات کی خبر سنی۔اتفاق سے خاکسار کا پانچ سال کا انگلستان کا ویزا لگا ہوا تھا اور ابھی گھر میں مشورہ ہورہا