جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 487
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے 487 اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آئندہ زمانہ میں احمدیت کے خلفاء بننے والے ہیں۔دل خوشی اور مسرت سے بھر گیا لیکن اگر چہ اس وقت غالباً 1983ء میں میں نے کسی کو نہ پہچانا مگر وہ چہرے دل میں خوب محفوظ ہو گئے۔بالآخر 1994ء میں ایک دن دفتر دعوت الی اللہ میں جارہا تھا کہ دفتر دیوان اور اشاعت کے درمیان سامنے سے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو تشریف لاتے دیکھا۔تقاضا ادب کے پیش نظر وہاں رک گیا آپ پر نظر پڑی دل میں فور وہی ماہ تاباں ابھرا جو پہلے خواب میں دیکھا ہوا تھا اس وقت سے آپ کو پہچانا اور یہ محبت دن بدن بڑھتی گئی یہاں تک کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ) نے آپ کو ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی مقرر فرمایا تو پھر تو جملہ پردے ہٹ گئے اور یہ محبت اتنی بڑھ گئی کہ بسا اوقات خاکسار دورہ سے واپسی پر ایک آدھ دن کی رخصت لے لیتا تو پھر بھی آپ کی جھلک دیکھنے کے لئے دفاتر کا چکر ضرور لگا لیتا اور اللہ تعالیٰ میری آرزو کو پورا کرتا۔سبحان اللہ والحمد للہ۔" ( تاریخ تحریر 10 رمئی 2003ء) ☆۔۔۔-i ۴۔مکرم مبارک احمد نجیب صاحب مربی سلسله نظارت اشاعت ربوہ خاکسار حلفیہ بیان کرتا ہے کہ آج ہے 19/20 سال قبل غالباً جنوری 1984ء کے اوائل میں خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں۔اور خاکسار بیت مبارک ربوہ میں موجود ہے کہ اچانک دو بزرگوں مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ( مرحوم و مغفور ) اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم۔اے۔نے مجھے