جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 459 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 459

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ۱۴۱ مکرمہ ریحانہ شاہین قریشی صاحبہ بنت قریشی عبد الغنی صاحب دار الرحمت غربی ربوہ 459 10 جون 1982ء کو دوپہر ساڑھے 12 بجے میں ڈیوٹی سے واپس آکر تھوڑی دیر آرام کی غرض سے لیٹتی ہوں دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔اور لبوں سے بار بار یہ دعا نکل رہی ہے کہ اے خدا انتخاب خلافت خیر و عافیت سے ہو جائے جماعت کو انتشار سے بچا اور جماعت پر خاص فضل فرما۔ایسے میں یکدم خواب یا نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک گھڑی سی ہے جسے لینے کے لئے مرزا رفیع احمد صاحب کی بیٹی اور میاں حنیف کی بیٹی جھگڑ رہی ہیں کہ یہ میری ہے دونوں میں بحث ہو رہی ہے کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب کی بیٹی فائزہ آتی ہیں بغیر ادھر ادھر دیکھے اس گھڑی کو اٹھا کر چل پڑتی ہے کہ یہ گھڑی تو ہے ہی ہماری یہ نظارہ میں جاگتی آنکھ سے دیکھ رہی ہوں اور سخت حیران ہوں کہ کیسی خواب ہے جو جاگتی آنکھوں نے دیکھی ہے اس کے بعد دل اس یقین اور اطمینان سے لبریز ہو جاتا ہے کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ہی جماعت کو سنبھالیں گے اور بغیر کسی انتشار کے۔☆۔۔۔۱۴۲ مکرم عبد الحمید صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ محراب پور نواب شاہ خاکسار کو جب صبح پانچ بجے حضرت خلیفہ اسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کے وصال کی اطلاع ملی تو خاکسار نے جماعت میں فتنہ اور شر سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی