جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 450
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 450 خاص طور پر 9-18جون کی درمیانی شب کو خاکسار لیٹے ہوئے بھی ہر پہلو حضور ( رحمہ اللہ ) کی صحت کے لئے دعا کر رہا تھا۔تقریباً 2 بجے کے بعد غنودگی کی حالت میں اطلاع ملی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نیلم (ہیرا) ہلے گا جس میں لوہے اور تعلیم (دھات) کی آمیزش ہوگی تقریباً 3 بجے شب جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کی وفات ہوئی فوراً اس خواب کی تعبیر کا تعلق تو خلافت رابعہ کی طرف ظاہر ہوتا نظر آیا۔-ii وفات کے بعد ربوہ کی طرف دوران سفر بس میں غنودگی کی حالت میں پھر دو الفاظ زبان پر تکرار کے ساتھ جاری ہوئے۔اور جب بیداری ہوئی تو پھر بھی یہی الفاظ جاری تھے کہ "مرزا طاہر احمد اور کوئٹہ " خواب کے پہلے حصہ کی تعبیر پر تو شرح صدر ہے مگر دوسرے حصہ کی تعبیر اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔( تاریخ تحریر 15 جون 1982ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۱۳۹ مکرمہ زاہدہ صدیقہ صاحبہ فضل عمر ہسپتال ربوہ 10- 9 جون 1982ء کی درمیانی شب تقریبا تین بجے میری آنکھ کھلی میں نے دل میں اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے کا ارادہ کیا میں بستر سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ نیند نے پھر مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔کیا دیکھتی ہوں کہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ( رحمہ اللہ ) ایک سرسبز میدان میں بیٹھے ہوئے ہیں کافی سارے لوگ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں بشمول میرے آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں حضور نصیحت فرمارہے ہیں۔