جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 435
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 435 رحمہ اللہ ) کے لئے دعائیں کرتی آرہی تھی۔کہ خواب میں حضرت صاحب کو بڑی اچھی حالت میں کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔پھر دوسری طرف حضور کا تابوت بھی دیکھا۔۔۔۔تسلی کر لی کہ حضور کی عمر لمبی ہوگی۔8 جون کی رات کو اوکاڑہ میں ہی خواب دیکھا۔کہ سمندر کا کنارہ ہے۔پانی نہیں ہے۔ریت بالکل سفید برف کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی طرح ہے۔اس قدر سفیدی ہے کہ آنکھیں چندھیا رہی ہیں۔اور اس ریت پر ایک قلی جس نے قلیوں جیسا لباس پہنا ہوا ہے۔شلوار قمیض کا رنگ سرخ ذرا مدھم ہے یعنی Fade ہو رہا ہے۔لیکن پگڑی سرخ رنگ کی چمک رہی ہے۔یہ قلی تیز تیز قدموں کے ساتھ ریت کی دلدل میں سے گزر رہا ہے۔رنگ صاف ہے قد پورا سا ہے۔میں نے اس کا پیچھا دیکھا ہے۔شکل نہیں دیکھ سکی۔بہت کوشش کرتی ہوں کہ اس کی شکل دیکھوں یا نمبر ہی نوٹ کرلوں۔لیکن وہ تیز تیز قدموں سے چلتا چلا جارہا ہے۔آخر کار ریت کی دلدل عبور کر کے اوپر چڑھ جا تا ہے۔اس کے بعد آنکھ کھل جاتی ہے۔!!!~ iii۔رات کے ڈھائی بجے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کے وصال کی اطلاع ملتی ہے۔سخت افسوس اور کرب کی حالت ہوگئی۔دعائیں پڑھ رہے ہیں۔اپنی بچی کو کہتی ہوں۔کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا۔والی دعا پڑھو۔کہ ذرا دیر کے لئے آنکھ لگ جاتی ہے۔میاں رفیع احمد احب کو دیکھتی ہوں۔پہلے تو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوتا ہے۔کہ حضرت مصلح موعود نو ر اللہ مرقدہ کے بیٹے ہیں۔کیا ہی نورانی چہرہ ہے۔لیکن پھر میں دیکھتی ہوں۔قریب سے جا کر تو کوٹ کے بٹن کھلے ہوئے ہیں۔جیب میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے۔اور گردن ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے۔داڑھی سیاہ بال بھی سیاہ اور پریشان حال کھڑے ہیں۔پھر ایک دم ان کے چہرے کو دیکھتی ہوں تو وہ سیاہ ہوتا جارہا ہے۔دیکھنے سے گھن آنے لگتی ہے۔پھر اس قد رگھن اور کراہت آتی ہے۔کہ میں دیکھ کر پیچھے کی طرف ہٹتی جارہی ہوں۔اور پیچھے ہٹتے ہٹتے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔اور میں بڑی