جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 408
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 408 مکرم فداء الحق سیٹھی صاحب ابن فضل حق سیٹھی صاحب جہلم خاکسار نے 26 اور 27 رمئی 1982ء کی رات جو یوم خلافت کی رات تھی کو خواب دیکھا۔کہ جلسہ سالانہ ہے اور لوگ پنڈال میں کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔اور میں ڈیوٹی پر ہوں مگر میں نے دیکھا کہ گورنمنٹ کے کافی بڑے بڑے آفیسر جن کو میں تجربہ کی روشنی میں سمجھتا ہوں کہ کسی خاص مشن پر ہیں۔اور ساتھ ہی مجھے خواب میں پتہ چلتا ہے کہ ایک آئی۔جی پولیس ہے۔ایک D۔C اور S۔P اور مجسٹریٹ ہیں۔آئی۔جی صاحب وردی میں ہیں اور باقی سفید کپڑوں میں مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ کسی وجہ سے حضور کو حراست میں لینا چاہتے ہیں۔اور میں اُن کے ساتھ رہتا ہوں۔اچانک حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) مرسڈیز کار میں تشریف لاتے ہیں۔اور بہت دلیرانہ اور واشگاف الفاظ میں کوئی تقریر شروع فرماتے ہیں۔ایک دم یہ لوگ حضور کو عرض کرتے ہیں کہ آپ تشریف لے آئے ہیں حضور کا لباس بالکل وہی جو کہ 1981 ء آخری تقریر جلسہ سالانہ میں پہن کر آئے تھے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔اُن لوگوں کے ساتھ تشریف لے جاتے ہیں اور سب لوگ وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔میں اور ایک آدمی جس کا لباس بالکل وہی ہے جو عموماً جامعہ کے طالب علم پہنتے ہیں یعنی کالی جناح کیپ سفید شلوار اور قمیض اور پوری مگر چھوٹی داڑھی اور صحت کے لحاظ سے ذرا کمزور ہے میرے ساتھ ہیں۔حضور کے ساتھ چلتے ہیں۔حضور وہاں سے سیدھے اُن لوگوں کے ساتھ بیت مبارک کی طرف تشریف لاتے ہیں اور باہر کھڑے ہو کر بیت مبارک کی طرف منہ کر کے دُعا کرتے ہیں جیسے اس کو الوداع کر رہے ہیں اور سوگوار طریقہ سے ہاتھ سے بیت مبارک کو الوداع کرتے ہوئے اشارے سے بیت مبارک کو بوسہ دیتے ہیں۔اور حضور کے کندھے پر ایک چادر ہے جو کہ گاڑھے نسواری رنگ کی ہے وہ چادر اُتار کر اس آدمی کو دے دیتے ہیں جو کہ ساتھ ہے جو جامعہ کے طلبہ کے مشابہہ ہے