جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 375
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 375 کے لئے جانوروں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔اور اتنی کثرت سے جانوروں کو ذبح کیا جارہا ہے کہ وہاں پر چوڑی نالی میں تیزی سے خون بہہ رہا ہے۔میں بھی جا کر ایک بکرا ذبح کرتی ہوں۔اور دل میں خوف بھی ہے اور کچھ اطمینان بھی۔کہ اب انشاء اللہ یہ فتنہ ختم ہوگا۔میں سوکر جب اٹھی تو ذہن میں یہ تاثر تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات پر مسئلہ خلافت پر یہ اجتماع ہوگا۔جو میں نے خواب میں دیکھا۔اور ایسے حالات جماعت کو پیش آئیں گے۔ii۔دو ماہ بعد یعنی دسمبر 1980ء کو میں نے یہ خواب دیکھا کہ ایک بڑی جلسہ گاہ ہے۔اغلباً جلسہ سالانہ یا سالانہ اجتماع کا موقع ہے اور فیصل آباد سرگودھا مین روڈ سے ربوہ کی اندرونی سڑک پر مڑتے ہوئے سامنے بہت اقصیٰ کے قریب جلسہ گاہ ہے۔وہاں سٹیج پر ہمارے خلیفہ تقریر فرمارہے ہیں۔وہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) نہیں ہیں بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ہیں۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ میں جمع ہیں۔میں سرگودہا سے ربوہ جلدی جلدی پہنچتی ہوں تا جلسہ Attend کر سکوں۔مین روڈ سے اندر مڑتے ہی لوگ بیٹھے ہیں۔میں یہ مجھتی ہوں کہ یہاں تک لوگ جمع ہیں۔کیونکہ سٹیج نظر نہیں آ رہا۔صرف لاؤڈ سپیکر پر آواز آرہی ہے۔میں آگے بڑھتی ہوں تو یہ دیکھتی ہوں کہ جہاں سڑک کی گولائی ختم ہوتی ہے وہاں پر بائیں ہاتھ کو ایک ذیلی سڑک جارہی ہے جس کے سرے پر ایک درخت ہے۔اور اس درخت کی آڑ میں ایک شخص کھڑا تقریر کر رہا ہے۔اور وہ شخص Anti پروپیگنڈا کر رہا ہے اور لوگوں پر اپنا الگ نقطہ نظر واضح کر رہا ہے جو کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے ارشادات کے بالکل الٹ ہے۔اس کے سننے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔اور اس نے تقریر کرنے کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کر رکھا ہے کہ ربوہ آکر جلسہ گاہ میں جانے کے جو دو راستے ہیں وہ ان کے درمیان کھڑا ہے کہ ہر شخص کو اس کے پاس سے گزر کر اصل جلسہ گاہ تک جانا پڑتا ہے۔بعد میں