جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 305
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 305 صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا کیوں اتنا فکر تھا۔دراصل وہ ایک قیمتی وجو دتھا جسے ت مصلح موعود جیسا صاحب فراست باپ چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا تھا۔حضرت اس کے بعد میں اپنے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔احباب کو معلوم ہے کہ یہ ناچیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس خاندان کا قریباً پچاس سالہ وفادار خادم رہا ہے۔ابتداء میں خدمت کا موقع 1918ء میں ملا اور اس کے بعد متواتر خدمت کرتے چلے جانے کا شرف حاصل ہوا۔حضور نے 1924 ء میں یورپ کا سفر اختیار فرمایا تو اس عاجز کو بھی حضور کی معیت کا شرف نصیب ہوا۔سفر پر روانہ ہونے سے دو تین روز قبل حضرت ام ناصر صاحبہ نے خاکسار کو بلوا کر فرمایا۔ڈاکٹر صاحب ! آپ اپنا فوٹو میرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھنچوا کر دے جائیں۔چنانچہ حسب ارشا د فوٹو کھنچوایا گیا۔جس میں شامل ہونے والے اصحاب مندرجہ ذیل ترتیب سے بیٹھے ہیں۔دائیں سے بائیں : حشمت اللہ ، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب،صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب،صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب تقسیم ملک تک یہ فوٹو اس عاجز کے پاس موجود تھا۔بعد میں یہ قادیان رہ گیا لیکن بہر حال اس سے اس تعلق کا علم ہوتا ہے جو مجھے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ اور حضور کے صاحبزادگان سے ہے۔" ایاز محمود سیرت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب صفحہ 167 تا 171) ☆۔۔۔۔۔۔۔