جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 306
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے -۸۸ مکرم مرزا عبدالرشید صاحب وکالت تبشیر ربوه 306 1954ء میں سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے نو جوانوں کو درود شریف بکثرت پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ عاجز نے نماز میں جو درودشریف درج ہے اس کا وردا اپنا معمول بنالیا۔سوموار اور جمعرات کا روزہ بھی رکھنا شروع کیا۔ایک روز سحری کے وقت درود شریف کا ورد کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی۔دیکھا کہ میں بیت مبارک میں داخل ہورہا ہوں۔ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے۔جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے۔اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے خواب میں حضرت بابا گورونانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف سیدنا مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور پھر سیدنا حضرت خلیفہ امسح الاول نور اللہ مرقدہ تشریف فرما ہیں۔سید نا حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے نور کا ہالہ چلتا ہے جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم مبارک سے گزر کر حضرت خلیفہ مسیح الاول نور اللہ مرقدہ کی طرف جاتا ہے۔ان تینوں مقدس ہستیوں کے سامنے درمیان میں حضرت مصلح موعود ہیں ان پر بھی نورانی شعائیں پڑ رہی ہیں۔ان کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ( رحمہ اللہ ) اور حضرت مرزا طاہر احمد ہیں ( رحمہ اللہ ) دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔اس کے بعد ہ تمہیں دیکھیں لیکن ان کے چیرے ذہن میں محفوظ نہیں رہے۔میں نے یہ خواب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کی خدمت میں لکھی حضور نے فرمایا بڑی مبارک، بڑی مبارک، بڑی مبارک خواب ہے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملیں۔حضرت میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تو دس پندرہ دفعہ سے