جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 244
خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 244 میرے پاس یہ بزرگ صاحب کی ایک امانت تھی اور اب میں یہ امانت صاحب امانت کے حوالے کر رہا ہوں۔" فرمایا ہے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا ایک کشف جسے عبدالستار صاحب سیکشن آفیسر رشید سٹریٹ 4 ، غلام نبی کا لونی سمن آباد لاہور نے تحریر ایک دفعہ میں نے مسجد مبارک قادیان میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ کتاب حقیقۃ الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے پوتے نصیر احمد کا ذکر فرمایا ہے وہ کون ہیں؟ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ وہ تو فوت ہو گئے تھے اور مرزا ناصر احمد صاحب ان کے بعد پیدا ہوئے۔پھر آپ نے اپنا ایک کشف یا رویا سنایا۔( مجھے اس وقت یاد نہیں رہا کہ یہ کشف تھا یا رویا ) آپ نے فرمایا۔میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی ڈھول قسم کی ایک چیز ہے جو چکر کھا رہی ہے۔اس ڈھول کی بیرونی سطح پر خانے بنے ہوئے ہیں اور ہر خانہ میں کوئی صفت یا خوبی لکھی ہوئی ہے وہ ڈھول گھوم رہا ہے اور اس پر لکھا ہے کہ جس شخص میں یہ اوصاف ہوں گے اور اپنے ماں باپ کا کا رالڑ کا ہوگا۔وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑا شخص ہوگا۔پھر دیکھا کہ اس ڈھول میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سر مبارک نکلا ہے اور آپ فرماتے ہیں " وہ میں ہوں " پھر یہ ڈھول اسی طرح گھومتا جاتا ہے اور اس پر یہی الفاظ لکھے ہیں کہ ایک دوسرا سر اس ڈھول سے ظاہر ہوا دوسرا