جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 235
خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -i خلافت ثالثہ کے قیام بارے حضرت مصلح موعود کی رؤیا اور بشارات 235 حضرت خلیہ اسیح الثانی نے ہوشیار پور جلسہ ہم مصلح موعود میں اپنی تقریر 20 فروری 1944ء میں فرمایا: "خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میری جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔" -ii (الفضل 19 فروری 1956ء) قدرت ثالثہ کی بشارت دیتے ہوئے ایک موقعہ پر فرمایا: " جب یہ اس کا قائم کردہ سلسلہ ہے تو یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ میری موت کا وقت آجائے اور دنیا یہ کہے کہ مجھے اپنے کام میں کامیابی نہیں ہوئی۔میری وفات خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس دن ہوگی جس دن میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کامیابی کے ساتھ اپنے کام کو ختم کرلوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو جائیں گی جن میں میرے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کی خبر دی گئی ہے اور وہ شخص بالکل عدم علم اور جہالت کا شکار ہے جو ڈرتا ہے کہ میرے مرنے سے کیا ہوگا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو جاتا ہوں۔لیکن خدا تمہارے لئے قدرت ثانیہ بھیج دے گا۔مگر ہمارے خدا کے پاس قدرت ثانیہ ہی نہیں۔