جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 234 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 234

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 234 گئی۔پھر میں نے دیکھا ناصر احمد دہلیز سے اُتر آیا اور منور احمد نے اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔جس وقت مرزا منور احمد اس دہلیز کی طرف بڑھ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ پھیلے ہوئے تھے۔دایاں ہاتھ دائیں طرف اور بایاں ہاتھ بائیں طرف اور اس کے ساتھ ساتھ پہلو میں عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جا رہے تھے۔مرزا منور احمد بڑھ کر اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہو گیا۔اور پھر پہلے کی طرح روشنی چکر کھا کر اس کی طرف آنی شروع ہوگئی اور اس کے جسم پر پڑنے لگی۔اس وقت میرے دل میں خیال گذرا کہ کاش چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اس کا ہاتھ پکڑا ہوا ہو تو اس میں سے ہو کر خدا تعالیٰ کا نوران میں بھی داخل ہو جائے۔تب میں نے ذرا سا منہ پھیرا اور دیکھا کہ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عزیزم مرزا منور احمد کا دایاں ہاتھ پکڑا ہوا ہے۔اس پر میں نے دل میں کہا۔الحمد للہ ! چوہدری صاحب نے عین موقعہ پر مرز امنور احمد کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔اب انشاء اللہ منور احمد میں سے ہوتے ہوئے الہی نور چوہدری صاحب کے بھی سارے جسم میں گھس گیا ہو گا۔اور اس پر میری آنکھ کھل گئی۔" (الفضل 08/اکتوبر 1955ء) iii۔ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہی ! میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہوا۔پھر جوش میں آکر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ در روازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی۔اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دو قائمقام کھڑے کر دیئے۔یہ ایک طرح کی بشارت ہے۔جس سے آپ لوگوں کو خوش ہو جانا چاہئے۔" ( عرفان الہی از انوار العلوم جلد 4 صفحہ 288)