جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 214
خلافت ثانیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 214 ام ناصر نے کہا کہ نہیں۔حضور بہت جلدی میں ہیں، اور جیب سے چابیاں نکال کر اس صندوق کا تالا کھولنے لگے ہیں۔جس میں ان کے کپڑے ہیں میں بھی پاس ہی کھڑی ہوں میرے دل میں خیال آیا کہ ایک دفعہ حضور سے عطر کی شیشی نہیں کھلتی تھی ، اور مجھے عطر کی شیشیاں کھولنے کی ترکیب یا تھی، کہ وہ گرم کر کے کھل جاتی ہیں اور میں نے ام طاہر احمد مرحومہ سے شیشی لے کر کھول دی تھی۔یہی خیال کر کے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے تالا بھی مجھ سے کھلوا دے۔میں نے حضور سے چابی لے لی اور جب تالے میں گھمائی تو وہ تالا کھل گیا، اور ام ناصر احمد نے حضور کے کپڑے نکال کر دیئے۔حضور اپنے کپڑے لے کر اسی جگہ چلے گئے جہاں پر وضو کر رہے تھے، اور کپڑے بدل لئے میں اسی جگہ کھڑی تھی۔کپڑے بدل کر حضور کھڑے ہوئے تو حضور کی شلوار اس قدر چمک رہی تھی جیسے پہاڑوں پر برف چمک رہی ہو۔قمیض اس سے بھی زیادہ چمکدار تھی۔جب حضور نے سر پر پگڑی باندھی۔تو ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے پگڑی پر آسمان سے نور برس رہا ہے۔اس پگڑی کی وجہ سے حضور کا چہرہ بھی ڈھانپا گیا تھا۔اس کے بعد جب حضور نے اچکن پہنی تو ایسے معلوم ہوا جیسے حضور بادشاہ ہیں ، اور حضور کے اوپر سرخ رنگ کا جھول پڑا ہوا ہے۔میں بہت حیران ہوکر حضور کی طرف دیکھے جارہی ہوں۔اتنے میں سامنے سے مجھے حضرت اماں جان آتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔اور ایک طرف کو بڑی ممانی جان بھی کھڑی ہوئی نظر آئی ہیں۔حضرت اماں جان نے مجھے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ اولڑ کی ! او بیگم ! تم کیا دیکھ رہی ہو۔اس پر میں اماں جان کو خوشی سے کہتی ہوں کہ دیکھیں اماں جان میں کیا دیکھ رہی ہوں۔حضور بادشاہ بن گئے ہیں۔بس اتناد یکھنے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔" نوٹ: ڈاکٹر صاحب نے یہ الفاظ کہ کیا خلیفہ کی ضرورت ہے۔مجھے اس لئے کہے تھے، کہ دیکھیں میرا خیال کیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر صاحب تو حضور کی بیعت کر کے قادیان سے گئے تھے۔