جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 213
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 213 نے 1939 ء میں دیکھا تھا۔اور اسی روز صبح کو حضور کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔اس روز سے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ دین کے بادشاہ حضور ہی ہیں۔اس خواب کے ساڑھے چار سال بعد حضور نے اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا تو اسی وقت سے ہی میرا اور میری اولاد کا یہی ایمان ہے، کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلح موعود ہیں اور خلیفہ برحق ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولیٰ کریم میرا اور میری اولا دکا اسی ایمان پر خاتمہ کرے۔آمین اس سے قبل بھی جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی۔تو ( مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب) ڈاکٹر صاحب قادیان میں ہی موجود تھے جب وہ واپس پٹیالہ گئے۔تو میرا ان سے پہلا سوال یہ تھا کہ خلیفہ کون بنا۔اس پر ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کیا سچ مچ خلیفہ کی ضرورت ہے۔میں نے جواب دیا کہ خلیفہ کے بغیر جماعت کیسے رہ سکتی ہے۔خلیفہ کا ہونا ضروری ہے۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میاں محمود خلیفہ ہوئے ہیں اور کہنے لگے۔کہ کیا تمہاری طرف سے خط لکھ دوں۔میں نے کہا کہ ہاں آپ خط لکھ دیں۔اللہ تعالیٰ جب مجھے توفیق دے گا تو میں قادیان جا کر خود حضور کی بیعت کروں گی۔اب میں اپنا خواب تحریر کرتی ہوں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی جگہ ہے جہاں حضور سیر کے لئے یا کسی اور مقصد کے لئے گئے ہیں۔حضور کے ہمراہ میں اور ڈاکٹر صاحب بھی ہیں۔مکان کی نچلی منزل میں ہم رہتے ہیں۔اور اوپر کی منزل میں جس کے کئی کمرے ہیں حضور قیام فرما ہیں۔میں اپنے نیچے کے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی ہوں۔تو ام وسیم احمد ایک کمرے میں بیٹھی ہیں ، اور اسی کمرے کے آتشدان پر پرانی چابیوں کے کئی گچھے پڑے ہیں۔میں ان کو السلام علیکم کہہ کر آگے چلی گئی ہوں۔آگے جا کر دیکھا کہ حضور برآمدے میں بیٹھے وضو کر رہے ہیں۔میں نے حضور کو السلام علیکم کہا اور پیچھے کھڑی ہوگئی۔حضور وضو کر کے جلدی سے اٹھے اور ایک کمرے کی طرف چلے گئے۔جہاں پر ام ناصر احمد کھڑی ہیں اور فرمانے لگے کہ تم نے میرے کپڑے نکال دیئے۔اس پر