جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 200
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے " ۶۰ مکرم با بو عزیز دین صاحب پنشنر ظفر وال کا ایک خواب 200 آپ نے حضرت خلیفہ اسی الثانی نوراللہ مرقدہ کواپنے ایک خط میں لکھا۔پندرہ بیس سال کی بات ہے کہ ماہ رمضان میں میں نے ایک رؤیاد دیکھا تھا۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کا جو کام آپ کے سپرد کر رکھا ہے۔اس کی انسپکشن کے لئے آئے اور بیت الاقصیٰ قادیان کے مینار کے اوپر مقیم ہیں۔حضرت عیسیٰ اس مینار پر کچھ فاصلہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی موٹر یا ہوائی جہاز کے ڈرائیور معلوم ہوتے ہیں۔آپ بھی مینار پر آئے ہیں پہلے حضرت مسیح موعود سے مصافحہ کیا ہے۔حضرت اقدس نے آپ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے حضرت پاک محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ میر امحمود آ گیا۔رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا ! کہ آپ کا محمود ہے تو ہمارا نہیں؟ یعنی تائید کی کہ ہمارا بھی محمود ہے۔حضور مشعل کو جو آگے تھی بغور دیکھ رہے ہیں۔جب آپ نے حضرت عیسی کی طرف دھیان کیا تو وہ کھڑے ہو گئے اور مصافحہ کیا۔پھر آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتنے میں رسول پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا کہ خیال رکھنا ہم نے سورج چڑھنے سے پہلے وہاں ضرور پہنچنا ہے۔چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مسیح موعود کی پیٹھ مغرب کو تھی۔اس لئے آپ کا منہ سیدھا مغرب کو تھا۔آپ نے فوراً کہہ دیا کہ حضور سورج نکل رہا ہے اور میں نے بھی دیکھا کہ قادیان سے مغرب کی طرف نہر کے قریب سورج نکل رہا ہے۔شعاعیں بہت دور تک ہیں اور اصل سورج بھی چاند ہلال کے مطابق نکلا ہوا ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فوراً بستہ باندھنے لگے ، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار چیزیں دو انڈینپڈنٹ اور دو کر پانیں دیں ، کہ ایک تلوار