جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 199 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 199

خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 199 مجھ کو اس سے ہٹا نہیں سکتا۔کیونکہ میں نے خدا تعالیٰ سے دریافت کیا تھا۔جس کے جواب میں اس نے مجھے خود بتایا ہے۔میرا خیال ہے کہ یہ خواب میں نے قادیان شریف میں حضور کو بھی لکھ کر بھیجا تھا۔1946ء میں یہ خواب دیکھا گیا۔اس کے بعد آج تک یہ خواب یا اس کا تصور میرے خیال میں نہ آیا۔آج جبکہ موجودہ فتنہ نے سر نکالا ہے۔تو مجھے یہ خواب فورا لفظ بلفظ یاد آ گیا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے مجھے توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ خواب یاد کر اور میرے ذہن میں اسی طرح سے الفاظ روشن ہیں۔جیسا کہ اس وقت خواب میں بتائے گئے تھے۔میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر خدا کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یہ خواب لکھ رہا ہوں کہ مندرجہ بالاتحریر میں جو کچھ لکھا ہے۔وہ بالکل سچ ہے، اور بعینہ اسی طرح خواب جو دیکھا ہے جو آواز خواب میں آئی تھی۔لفظاً لفظ وہ یہی ہے، اور الفاظ وغیرہ میں کوئی تبدیلی یا کمی بیشی نہیں ہوئی۔میرا ذ ہن آج تک بھی اسی طرح ان فقرات کو دہرا رہا ہے۔"۔انہی دنوں میں ایک اور بھی خواب دیکھا تھا کہ حضور خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود، فوجی لباس میں ہیں۔بیت الاقصیٰ میں منبر پر کھڑے ہوئے ہیں۔ایک پاؤں ممبر کے کٹہرے پر رکھا ہے اور کچھ آگے کو جھک کر جماعت کو وعظ فرما رہے ہیں۔بیت الاقصیٰ جماعت کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے اور میں بھی حضور کے قریب کھڑا ہوا ہوں۔حضور نے فرمایا: غالباً لھیعص سے مراد ہے۔ایک دفعہ سندھ سے آرہا تھا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا کہ ان حروف میں تمہارے متعلق پیشگوئی ہے میں نے اسی وقت یہ رویا مولوی شیر علی صاحب کو سنادی جوانہوں نے بعد میں غالباً شائع کرا دی۔" (الفضل 14 ستمبر 1956ء)