جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 164
خلافت ثانيه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 164 خلافت ثانی کے عاشق ضرور ہیں۔اور عشق بھی وہ ہے جو صرف سنا سنایا نہیں بلکہ مشاہدہ سے حاصل ہوا ہے۔" (الفضل 18 ستمبر 1956ء) مکرم مرزا برکت علی صاحب آف ابادان کی رؤیا آپ نے عراق سے حضرت خلیفہ انبیع الثانی کی خدمت میں تحریر کیا۔" حضور عالی ! 1911 ء یعنی 45 سال قبل کا ایک رؤیا جس کی بناء پر میں احمدی ہوا تھا عرض کرتا ہوں۔سید نا 1911 ء میں دیکھا کہ ایک ایسے جنگل میں ہوں جہاں چاروں طرف درندے ہی درندے از قتسم شیر، چیتے ، بھیڑئے ، سور وغیرہ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں۔میں سخت خوف زدہ ہو کر رو رہا ہوں۔کہ اتنے میں ایک مسجد سامنے دکھائی دی۔میں اس کے اندر داخل ہو گیا جو نہی میں اندر داخل ہوا۔ایک نہایت خوبصورت نوجوان جس کے سر پر سفید پگڑی بندھی ہوئی تھی کو دیکھا۔اس نے میری بیقراری کی حالت اور گریہ زاری کو دیکھ کر میرے سر پر شفقت پدرانہ کی طرح ہاتھ رکھا۔اور کہا " مت ڈریا مت خوف کھا اس کا اتنا کہنا تھا کہ آن واحد میں وہ تمام درندے غائب ہو گئے اور میں بیدار ہو گیا۔صبح میں نے اپنے والد مرزا حبیب اللہ خاں صاحب کو خواب سنائی۔کہنے لگے خواب مبارک ہے کوئی مرشد کامل ملے گا۔(والد صاحب پکے وہابی تھے اور مولوی محمد حسین صاحب