جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 161
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 161 اپنے مطب میں حسب معمول تشریف فرما ہیں اور اسی طرح دری پر بیٹھے ہوئے سامنے وہی چھوٹی سی میز رکھی ہوئی ہے۔میں السلام علیکم کہہ کر اُن کے قریب دروازہ کی طرف بیٹھ گیا، اور عرض کی کہ حضور نے رپورٹ کر دی ہے۔آپ نے فرمایا! کہ میں بچہ نہیں ہوں میں نے قریب سوسال دنیا میں گزارے ہیں میں سر براہ نمبر دار تھا۔اصل نمبر دار نابالغ تھا اب وہ بالغ ہو گیا ہے اسی نے اپنا کام خود سنبھال لیا ہے۔بعدہ میں خواب سے بیدار ہو گیا میں نے وضو کیا اور اسی وقت خط حضور اقدس کی خدمت میں لکھا اور یہ خواب من وعن درج کر دی۔اور عرض کی کہ حضور خادم کی بیعت منظور فرماویں۔یہ خواب 1914 ء سے آج تک کئی صاحبان کے سامنے بیان کیا ہے اسی دن سے خادم حضور کو خلیفہ برحق مانتا ہے۔اللہ تعالیٰ میرے اس ایمان کو تادم واپسیں قائم رکھے آمین۔" ( الفضل 18 ستمبر 1956ء)۔۔۔۔۔۔۔۔i۔مستری اللہ دتہ صاحب آف کر تو ضلع شیخوپورہ اور ان کی اہلیہ کی خوا ہیں "1933ء میں بیعت کرنے سے چند ماہ پہلے ایک خواب دیکھا تھا خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ خواب بیان کرتا ہوں بندہ یہ دُعا کرتا ہوا سو گیا کہ مولا کریم ہم ان پڑھ کدھر جائیں۔ادھر جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم بچے ہیں ادھر جائیں تو کہتے ہیں ہم بچے ہیں۔میرے خدا! تو آپ ہی میری دستگیری فرما۔خواب میں دیکھا کہ