جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 162 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 162

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 162 ایک آدمی بڑے جلال کے ساتھ میرے رخسار پر طمانچہ لگا کر کہتا ہے کہ تم اندھے ہو۔یہ چاند چڑھا ہوا ہے اور تمہیں نظر نہیں آتا۔میں نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جدھر وہ اشارہ کرتا تھا تو مجھے چاند نظر آیا۔جیسے ابتدائی راتوں کا ہوتا ہے پھر بندہ کی آنکھ کھل گئی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس خواب کی بناء پر احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔-ii تھوڑا ہی عرصہ گزرا ایک شخص نے اعتراض کیا کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کے موجودہ خلیفہ صاحب نے حج نہیں کئے۔بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حج بدل کا ثبوت دیا۔مگر حضور کے حج کے متعلق مجھے علم نہیں تھا۔میں نے وعدہ کیا کہ میں کسی عالم سے پوچھ کر بتاؤں گا۔تو اسی رات کو بندہ نے دعا کی کہ مولا کریم ہم ان پڑھ ہیں مسائل بھی تو خود ہی سمجھا دے۔تو بندہ نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گاؤں کے شمال جانب تقریباً دو فرلانگ پر حضور شاہانہ تخت پر بیٹھے ہوئے مغرب کو جارہے ہیں۔اس تخت کو چار آدمی اُٹھائے جارہے ہیں۔وہ آدمی عام آدمیوں کی طرح نہیں ہیں میں ان کو فرشتے سمجھتا ہوں۔قد بہت ہی لمبے ہیں ان کے چہرے نظر نہیں آتے تھے۔اور ان کی رفتار بھی بہت تیز تھی۔کچھ آدمی ادھر ادھر اور پیچھے دوڑتے جار ہے ہیں۔بندہ کو بھی خبر ہوئی میں بھی پیچھے دوڑا۔اور ایک آدمی میرے ساتھ تھا وہ راستے میں کیچڑ اور پانی دیکھ کر رہ گیا، اور میں منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ایک آدمی مجھے کہنے لگا کہ پیچھے ہٹ جاؤ میں نے عرض کہ میں احمدی ہوں۔میں حضور سے ملنا چاہتا ہوں تو آگے کی طرف ہوکر حضور کی زیارت ہوئی۔تو معلوم ہوا حضور مکہ مکرمہ کی طرف جارہے ہیں۔اس کے بعد بیدار ہو گیا۔صبح ہی میں نے اس آدمی کو کہہ دیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حج کیا ہوا ہے۔اس نے کہا اتنی جلدی آپ کو کس نے بتا دیا۔میں نے خواب سنادی۔بندہ کو اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ حضور نے حج کیا ہوا ہے۔iii۔1953ء میں بندہ نے رات کو دعا کی کہ اے ہمارے قادر خدا تو نے حضرت ابراہیم !!!~