جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 157 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 157

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے اخوانناو ان يلهمك الصبر علی من آذالك والعفو آمين فيا سيدى ولما نمت سمعت صوتا محمود ،ناصر الدين من بعد نور الدين ثم استيقظت وحمدت الله تعالى و استغفر ته۔157 ترجمہ : کل الفضل آیا تو اس خط سے جو آپ کو کسی شخص نے لکھا ہے میں بہت کبیدہ خاطر ہوا۔میں نے دعا کی کہ خدا ہم میں اصلاح کر دے اور ہمارے دلوں میں الفت بخشے۔جب میں سویا تو میں نے آواز سنی۔محمود ناصر الدین نورالدین کے بعد پھر میری آنکھ (الفضل 25 / مارچ 1914ء) کھل گئی۔" ۳۰۔حضرت قاضی امیر حسین صاحب کی رویا آپ اپنی رو یا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" دور و یا ہیں جن کو میں حلفیہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ صاحبان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں وہ یہ ہیں، کہ جس زمانے میں حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو میں اپنے خیال سے نہیں بلکہ قرآن مجید اور احادیث کے رو سے نبی اور رسول صدق دل سے یقین کرتا ہوں، اور اس پر میرا ایمان ہے آپ آخری دفعہ لا ہور تشریف لے گئے تو میں نے رویا میں دیکھا کہ وسیع میدان میں ایک چارپائی بچھائی گئی۔اس کے سر کی طرف خلیفہ اسیح مولانا مولوی نورالدین صاحب بیٹھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب۔جن کو میں ان دو رؤیا کے بعد مظہر قدرۃ ثانیہ کا خیال کرتا ہوں۔وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور میں نے