جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 158 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 158

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 158 خلیفہ المسیح کے ساتھ مصافحہ کیا لیکن رنگ یہ تھا کہ میرا زانو میاں صاحب کی ران پر پڑا ،اور مخلوقات نے بہت ہجوم کیا۔تو مجھے یہ خوف ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میرے زانو سے میاں صاحب کی ران کو کوئی تکلیف پہنچے۔اور بڑے زور سے اپنے آپ کو پیچھے دباتا ہوں تا کہ میاں صاحب کو میرے زانو سے صدمہ نہ پہنچے۔اس نظارے کے بعد کچھ وقفہ سے دوسرے نظارے میں میاں صاحب سے مصافحہ ہوا۔اب یہ ایک اور رویا ہے جس کی صداقت کو ہم نے ظاہری مشاہدہ میں بھی نظارہ کر لیا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باغ کے میدان میں ایک چار پائی ڈالی گئی۔خلیفہ اسیح ایک لمبی چوڑی تقریر کے بعد لیٹ گئے اور دوسری طرف میاں صاحب بیٹھے۔خدا کی قدرت سے اس وقت میرا زانو میاں صاحب کی ران پر پڑا۔اور میں نے بڑے زور کے ساتھ میاں صاحب کی ران کو اپنے زانو کے صدمہ سے اس وقت محفوظ رکھا۔ورنہ میاں صاحب کو میرے زانو سے سخت ایذا پہنچتی۔سے ایک رکیا ہے جس کو میں نے خلیفہ مسیح کی خدمت میں پیش کیا تھا۔اور چند حباب کی خدمت میں بھی ظاہر کیا ہوا ہے۔ii۔دوسرار و یا یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی مسجد میں بہت مخلوقات جمع ہے اور یہ شور پڑ گیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور میں اس وقت مسجد میں موجود تھا۔میں نے بھی قدم بڑھایا کہ زیارت کروں۔جب پاس پہنچا تو صاحبزادہ صاحب میاں محمود احمد بیٹھے ہوئے ہیں۔اسی وقت خواب میں یہ وارد ہوا کہ یہ فنافی الشیخ کا رتبہ ہے جو میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوگا۔بھائیوا میں نے محض ہمدردی اور جوش اخوۃ سے اس کا اظہار کیا۔ورنہ آپ کو خوب معلوم ہے کہ میری عادت مضمون نویسی کی نہیں۔جو احباب واقف ہیں ان کو بہت عمدہ طور سے معلوم ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام میرے خوابوں کی قدر کرتے تھے اور خلیفہ المسیح کو