جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 131
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 11- مکرم جناب خواجہ عبدالواحد صاحب المعروف پہلوان گوجرہ ضلع لائکپور (فیصل آباد) 131 " میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اس خواب کو تحریر کرتا ہوں۔جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ مارچ 1914ء میں جبکہ حضرت خلیفہ اول ان دنوں سخت بیمار تھے اور پیغامی فتنہ بھی سر نکال رہا تھا۔میں ان دنوں ٹو بہ ٹیک سنگھ ضلع لائکپور تھا اور دعا کیا کرتا تھا کہ یا الہی اگر خلیفہ اول فوت ہو گئے تو پھر جماعت کا کیا حال ہو گا ( ایک رات خواب میں دیکھا جبکہ حضرت خلیفہ اول دودن کے بعد فوت ہوتے ہیں دیکھا کہ ایک بڑا کھلا میدان ہے جہاں پر بہت سے لوگ جمع ہورہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے یہ میدان نیزہ بازی کا ہے لوگ اس قدر ہیں۔زمین سفید کی ہر دو قطار جو ادھر اور اُدھر کی ہے۔دکھائی نہیں دیتی۔چنانچہ میں بڑے زور اور کوشش سے تھوڑ اسا راستہ دیکھ کر آگے نکل گیا تو دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح الموعود و حضرت خلیفہ اول اس میدان میں روڑے وکنکر اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔میں نے ہر دو بزرگوں سے مصافحہ کیا۔یہ حالت آپ کی دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور پوچھا کہ حضور آپ کا یہاں آنا کس طرح ہوا۔حضور کی طرف سے آواز آئی۔کیا آپ کو معلوم نہیں ہے؟ میں نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ حضور مجھے کوئی علم نہیں ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول نے یک زبان ہو کر فرمایا میاں محمود کی سواری آرہی ہے اور ہم اس کا راستہ صاف کر رہے ہیں اس کے بعد میں بیدار ہو گیا اور رقت طاری ہوگئی۔میری آنکھوں میں خوشی سے آنسو جاری ہو گئے اور خدا کا شکر کیا۔" ( تاریخ تحریر 22 /اکتوبر 1939ء) بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ 442-441)