جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 128
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 128 میں دیکھتا ہوں کہ قادیان شریف میں بہت سے لوگ جمع ہورہے ہیں ، اور اس عاجز کو اور چوہدری اللہ داد خان نمبر دار احمدی محلانوالہ کو اور نیز اور چند احباب کو ایک مکان چوبارہ پر اتارا گیا ہے۔چوہدری اللہ داد خان اور دیگر احباب جانب دکن بیٹھ گئے ، اور عاجز اکیلا ہی جانب شمال بیٹھ گیا۔اور درمیان میں مصلیٰ بچھا ہوا تھا اور اسی مصلیٰ کی جانب مشرق ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور مصلیٰ پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور آپ نے اس مصلیٰ پر جانب مشرق رخ انور کر کے دورکعت نماز نفل ادا کرنی شروع کی جب آپ سجدہ میں جانے لگے تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی پشت مبارک پر ایک لڑکا جس کی عمر 7 یا 8 سال کی ہوگی بیٹھا ہوا ہے اور وہ لڑکا اس قدر حسین ہے۔ایسا شکیل لڑکا میری نظر میں کبھی نہیں دکھائی دیا، اور لباس اُس لڑکے کا سفید ہے اور سر پر ٹوپی ہے اور حضرت اقدس کا لباس میلا ہے کھدر کا کرتا ہے اور کھد رکا تہہ بند ہے۔اور گلے میں لدھیانہ کا کوٹ ہے۔اور ریش مبارک سیاہ ہے۔میں نے لباس دیکھ کر دل میں کہا کہ اللہ اللہ اس قدر اعلیٰ مراتب اور یہ سادگی۔جب حضرت اقدس التحیات میں بیٹھے تو آپ نے اس عاجز کو اشارہ سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔میں بیٹھا بیٹھا ذرا پیچھے ہٹ گیا۔میرے دل میں حضرت صاحب کے اشارہ کرنے سے خیال آیا کہ شاید التحیات پڑھتے ہوئے بات کرنا گناہ نہیں ہے۔پھر حضرت اقدس نے کالج کی طرف اپنی انگشت شہادت کر کے تین دفعہ أَشْهَدُ أَنَّ أَشْهَدُ أَنَّ بڑے زور اور جلالت سے اور خاص کر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے مکان کی طرف اشارہ کر کے پڑھا، اور عاجز کو حضرت صاحب کی اس جلالیت اور جوش سے یہ تفہیم ہوئی کہ حضرت اقدس مولوی محمد علی صاحب کو گرانا چاہتے ہیں، اور پھر حضرت اقدس اس چوبارہ سے مکان کے نیچے کی طرف تشریف فرما ہونے لگے اس وقت آپ کے دست مبارک میں ایک رومال اور باریک سی بید کی کھونڈی تھی اور آپ نے فرمایا ! کہ ان لوگوں نے میری اس وقت قدر نہیں کی پھر کس وقت قدر کریں گے۔اور یہ آپ کا فرمانا معلوم ہوتا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف ہے۔