جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 127
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے _^ حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب اکونوی کا رویا 127 خداتعالی کی قسم کھا کر لکھتا ہو کہ حضرت خلیفہ مسیح کی سابقہ بیماری کے ایام میں ایک دن جبکہ حضور خلد مکان کی حالت یاس افز اتھی اور ہمارے چہروں پر افسردگی چھا رہی تھی۔اور آئندہ کے خیالی ہولناک واقعات کا تصور خوفزدہ کر رہا تھا تو میں نے تہجد کی نماز میں دعا کی " الہی بنے گا کیا" محمود کے ہاتھ پر تو بیعت کرنے کو جی نہیں چاہتا۔اس کے بعد میں سو گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح نے میاں صاحب کی گردن پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور مجھے دیکھ کر فرمایا۔دیکھو! یہ پہلے بھی " اول " تھے اب بھی " اول " ہیں۔پس میں نے اُسی دن سے اپنے ناقص خیال سے رجوع کر لیا اور یقین کرنے لگا کہ " محمود کی آمین " میں جو مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں ہیں ایک دن اُن کی قبولیت کا اظہار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے (-) اور امام سلسلہ عالیہ احمد یہ ہونے کی صورت میں ہوگا۔میں نے اس رویا کو اس جلسہ میں بھی سنا دیا تھا جو حضرت صاحبزادہ صاحب مصروج کے لئے رخصت کرنے کی تقریب پر ہوا، اور جس پر غفران مکان حضرت خلیفہ اسیح بھی تشریف فرما تھے۔الفضل قادیان 28 / مارچ 1914ء) و۔شیخ عبدالقدوس صاحب نو مسلم کا خواب "16-15 / مارچ 1914ء کی درمیانی شب کو بعد نماز تہجد یہ خاکسار سو گیا اور خواب