جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 117
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے برکت سے تغیر پذیر ہو کر کم ہو جائے گا اور مغلوب ہو جائے گا۔" 117 (سیرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے صفحہ 175) اس الہام کی مزید وضاحت اور تفصیل اسی کتاب میں آگے چل کر یوں بیان ہوئی ہے جو کہ آپ کا ایک مضمون بعنوان " خلافت ثانیہ کا قیام " ہے جو کہ الحکم میں 1939ء کی خلافت جوبلی کے موقع پر شائع ہوا تھا۔" جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے وہ خط انہی بزرگوار یعنی مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کا تھا۔اس میں کیا لکھا تھا؟ اور تفاصیل کا تو مجھے علم نہیں مگر اس قدر مجھے اس مجلس میں معلوم ہو گیا تھا کہ ان کو دوران تبلیغ اور خدمات سلسلہ کی بجا آوری ہی میں الہام الہی اور کلام یزدانی کے ذریعہ سید نا خلافت مآب حضرت اقدس کی صداقت ، شان عالی اور مقام بلند کا علم دیا گیا ہے اور الہام ربانی " لولاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك " تھا۔جس کے مشار الیہ اور مصداق ہمارے آقا و مقتداء سید نافضل عمر بفخر رسل اولو العزم مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَى كَأَنَّ اللَّه نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ہیں۔یہ خلاصہ ہے تشریح و تفصیل مُلهِم وَمُلَهُمْ کے سوا دوسرا کوئی لکھ نہیں سکتا۔یہ خط بذریعہ ڈاک قادیان سے دور باہر کسی مقام سے آیا تھا۔سر بمہر تھا۔ڈاک حضرت کے سوا کسی نے کھولی تھی نہ کسی کو مضمون خط کا کوئی علم تھا۔میرا پر چہ کاغذ میرے محترم حضرت عرفانی صاحب نے کیوں اچانک اچک کر حضرت کے پیش کر دیا؟ یہ وہ معمہ ہے جو میری سمجھ میں نہ آیا تھا۔بعد میں مخدومی شیخ صاحب عرفانی نے خود ہی مجھے بتایا کہ تم جو کچھ لکھ رہے تھے میں اسے پڑھتا رہا تھا۔حضرت نے جو خط مجھے دیا اس کا اور تمہارے پرچہ کا مضمون چونکہ ایک جیسا تھا۔میں نے اس تطابق کو الہی تصرف سمجھ کر تمہارا پر چہ بھی حضرت کے حضور پیش کر دیا۔مجھے پہلے ایک نظارہ میں جماعت کی موجودہ کیفیت وحالت تَفَّرُقْ وَتَشَتُت کا نقشہ دکھایا گیا۔جس کی صورت یہ تھی کہ شفاف پانی اور آبِ مُقَطَّرُ کے بھی