جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 98
خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے۔محمود احمد، پر میشر اس کا بھلا کرے: 98 حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقده قبل از خلافت 1908ء کی اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں۔یہ تجویز میں ایک رؤیاء کی بناء پر کرتا ہوں جو 08 / مارچ1907 ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کا پی الہامات میں درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد ، پر میشر اس کا بھلا کرے۔خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا۔کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو کچھ حضرت صاحب کو دے دو کچھ صدرانجمن احمدیہ کو دے دو۔" پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ " کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمد چراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ سورج ہے اُس کی طرف سے آیا ہے۔" غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدر انجمن حد یہ کوروپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طفیل ہی ملتا ہے۔پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی بھیجتے ہیں۔حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعت سلسلہ میں خرچ کیا جائے۔قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہ نے یہی معنی کئے