جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 79
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 79 میں تو زبان سے یہ بات نکل ہی نہ سکتی تھی۔دل ہی گوارا نہ کرسکتا تھا۔پھر حالات بگڑے جوسب پر روشن ہیں کہ یونہی الزام لگتے تھے۔حضرت اماں جان پر اور خود حضرت سیدنا خلیفہ امسیح ثانی پر کہ خلافت کے خواہاں ہیں۔غرض کیا کیا اتہام نہیں تراشے گئے کیسی کیسی بدگمانیوں کے نتیجہ میں زبان و قلم کے تیر اس قطعی بے گناہ وجود پر نہیں چلائے گئے۔انہی وجوہ سے میں نہ تو لکھ سکی یہ بات اور نہ ہی زبان پر لاسکی۔اب ایسی عمر ہے کی کسی وقت کا پتہ نہیں کہ کب بلا وا آ جائے تو آج خلافت ثانیہ کے 50 سال کے بعد یہ امانت آپ کے سامنے حاضر کرتی ہوں۔جب انجمن کا قیام ہورہا تھا ان دنوں کا ذکر ہے کہ باہر کوئی میٹنگ انجمن کے ارکان کے انتخاب کی یا مقرر شدہ لوگوں کی قوانین وغیرہ کے متعلق ہو رہی تھی۔کیونکہ انجمن بن رہی تھی یا بن چکی تھی یہ مجھے علم نہیں نہ ٹھیک یاد ہے حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب باہر سے آکر آپ کو رپورٹ کرتے اور باتیں بتا کر جاتے تھے۔آپ حضرت اماں جان والے صحن میں ٹہل رہے تھے جب حضرت سیدنا بھائی صاحب آخری بار کچھ باتیں کر کے باہر چلے گئے تو آپ دار البرکات کے صحن کی جانب آئے اور وہاں سے حجرہ میں جانے کے دروازہ کی جانب اترنے والی سیڑھی کے پاس آکر کھڑے ہو گئے حضرت اماں جان پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔میں حضرت مسیح موعود کے پیچھے ساتھ ساتھ چلی آئی تھی اور پیچھے کھڑی ہوگئی۔آپ کی پیٹھ کی جانب بالکل قریب اس وقت آپ نے جیسے سیدھے کھڑے تھے۔اسی طرح بغیر گردن موڑے کلام کیا۔مگر بظاہر حضرت اماں جان سے ہی مخاطب معلوم ہوتے تھے فرمایا " کبھی تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ محمود کی خلافت کی بابت ان لوگوں کو بتادیں، پھر میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اپنے وقت پر خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔"