جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 663
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے ۱۷۷ مکرمه امتد الرحیم طیب صاحبہ اہلیہ شیخ نعیم الرحمن صاحب۔نیو جرسی امریکہ 663 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کی وفات پر بہت پریشان اداس اور بے چین تھی۔اسی حالت میں سو گئی تو 20 اپریل 2003ء بروز اتوار صبح 7:20 سے 8:30 کے دوران یہ خواب دیکھا کہ " کوئی آواز آئی ہے علی بابا۔میں یہ سن کر شدید غصہ میں بولتی ہوں۔کہ یہ پھر لوگوں نے شرارت کر دی۔وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں۔اور جماعت کے اتنے زیادہ کام ہیں۔خواب میں ہی میاں رفیع احمد صاحب کی طرف ذہن ہے اور غصہ ہے۔پھر دیکھتی ہوں کہ چھت ہے جو بہت لمبی ہے۔ایک طرف چھوٹا کمرہ ہے ( اب اس چھت کو خیال کروں تو وہ بیت مبارک قادیان کی چھت کی طرح ہے ) تو میرے میاں ایک طرف اشارہ کرتے ہیں۔لوہے کا ایک پلنگ ہے۔اس پر دولڑ کے ہیں ان میں سے ایک لیٹے ہوئے ہیں۔اور ایک بیٹھے ہیں۔ان کے قد لمبے ہیں۔میرے میاں کا اشارہ ان کی طرف ہے کہ خلافت ان کی طرف چلی گئی ہے۔میں پھر جواب دیتی ہوں۔کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو طوبی کے خاوند کے رشتہ دار ہیں ایسے کیسے ہوسکتا ہے بس کچھ عجیب حالت میں واپس آتی ہوں۔اداس ہو کر۔ایسا ٹائم ہے۔جیسے شام کے چار بجے ہوں وہی کمرہ ہے۔وہاں آکر سوچتی ہوں کہ اب جانا ہے۔کپڑے صاف پہن لوں۔کیونکہ میں اپنے کپڑے کافی گندے دیکھتی ہوں۔میں کپڑے تبدیل کر کے اسی چھت پر جو کافی لمبی ہے دوسری طرف جاتی ہوں۔تو سامنے دیوار کے ساتھ کرسی پر درمیان میں میاں مسرور احمد بیٹھے ہیں۔ان کے اردگرد تین چار افراد اور ہیں۔ان میں سے ایک شکل یاد ہے جو منیر احمد جاوید صاحب سے ملتی ہے ) جو سب کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔میں ٹائم دیکھتی ہوں تو 8:30 تھے۔میں کچھ لمحے خوف سے رہی کہ میں نے شاید خواب دیکھا ہے۔پھر