جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 506
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 506 ہمارے گھر واقع ربوہ میں تشریف لائے ہیں۔اور آپ نے حضور والی پگڑی پہن رکھی ہے۔اور لباس بھی حضور والا ہے۔میں آپ کو حضور کہہ کے مخاطب ہوتا ہوں۔میں کہتا ہوں کہ حضور آپ اکیلے ہی آگئے۔کوئی باڈی گارڈ ساتھ لیں۔پھر میں پوچھتا ہوں ، کہ حضور یہ کیسے ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ " یہ میرے اللہ کا فضل ہے ، جو مجھ پر ہوا ہے "۔تھوڑی دیر کے لئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کی روح اللہ کا شکر ادا کر نے آسمان پر چلی گئی ہے۔میں آپ کو بازو سے پکڑ کر ہلا تا ہوں ، تو پھر آپ کو ہوش آگئی ہے۔پھر آپ چلنے لگتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ آپ اکیلے نہ جائیں کیونکہ خطرہ ہے مگر آپ اکیلے ہی نکل پڑتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ایک دم باہر سے ایک فائر کی آواز آتی ہے۔میں بھاگ کر باہر نکلتا ہوں۔کیا دیکھتا ہوں کہ کسی نے فائر کیا ہے اور آپ کی ایک ٹانگ زخمی ہوگئی ہے۔میں فوراً آپ کو اندر لے آتا ہوں اور ڈاکٹر کو بلانے کے لئے جانے لگتا ہوں مگر آپ مجھے روک لیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ نہیں ایسے جماعت کی بدنامی ہوگی پھر میں خود ہی آپ کی مرہم پٹی کرتا ہوں، میں پوچھتا ہوں کہ حضور کون ظالم تھا۔جس نے ایسا گناہ کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں " کہ بس کوئی اپنا ہی تھا بد بخت " مگر آپ نام نہیں بتاتے۔پھر میری خواب ختم ہوگئی۔خواب کے دوران آپ کا نام مجھے " مسرور احمد "بتایا گیا اس سے پہلے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا پھر جب میں ربوہ گیا ، تو آپ کو دیکھا۔خدا کی قسم بالکل آپ وہی تھے۔خواب میں میں نے آپ کے چہرے پر اتنا نور دیکھا۔جس کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔یہ خواب میں نے سب سے پہلے اپنی اہلیہ مسز اختر درانی صاحبہ سابقہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ جر منی کو بتائی پھر ڈاکٹر عبد الغفار صاحب مربی سلسلہ کو سنائی، جب میں ربوہ گیا، تو اپنی اہلیہ کے ماموں مربی سلسلہ مکرم حکیم نذیر احمد ریحان صاحب کو سنائی تھی، یہ تین گواہ میری خواب کے ہیں۔