جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 3 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 3

خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 3 یہ دوسری قدرت دائمی ہے اور تا قیامت جاری وساری رہے گی اور جماعت احمدیہ کی نہ صرف مضبوطی کا باعث بنتی رہے گی بلکہ احباب جماعت کا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور عشق، سید نا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت ومحبت اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم سے پیار اور اس میں درج تعلیمات کو دلوں میں اُتار نے اور خالق حقیقی کا قرب پانے کا تا قیامت موجب بنتی رہے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ احباب جماعت کے ایمانوں میں پختگی اور استحکام کا باعث تو ہر وہ دور ہے جب ایک روحانی بندہ نبی یا خلیفہ کو اللہ تعالیٰ موت کی آغوش میں لے جاتا ہے اور پیشگوئیوں کے مطابق اس کی جگہ ایک اور روحانی بندے کو کھڑا کر کے اپنے مومن بندوں کی ڈھارس ، دلجوئی اور رہنمائی کرتا ہے۔اس عرصہ میں روحانیت کا انتشار اتنی کثرت سے کرہ ارض پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ الہامات، رؤیا ، خوابوں اور اشاروں کے ذریعہ آئندہ منتخب ہونے والے خلیفہ کا نام ، اس کے وجود کی بعض علامات اپنے مومن بندوں کے دلوں میں القاء کر دیتا ہے اور " کلیم " بنا کر اس کی تائید ونصرت میں اپنے پیاروں سے بولتا ہے اور یوں ایک طرف جہاں ایک روحانی بندے کو " کلیم " بنایا جارہا ہوتا ہے وہاں وہ اس کی تائید میں اپنے پیاروں سے کلام کر کے انہیں " کلیم " بنارہا ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔و ہ خدا اب بھی بنا تا ہے جسے چا ہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار اس کی تائید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام ینصرک رجال نوحی اليهم من السماء " سے بھی ہوتی ہے کہ وہ ایسے نازک وقت میں مبشر خوابوں رویا اور الہی اشاروں کے ذریعہ اپنے پیاروں کی رہنمائی کرتی ہے۔جماعت نے یہ نظارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ہر آنے والی