جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 41
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 41 اس کو سابقین میں سے پاتا ہوں میں اس کے علم و حلم کو ان پہاڑوں کی طرح دیکھتا ہوں جو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں مجھے علم نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا دوسرے پر فوقیت لے گیا ہے۔وہ دین متین کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔اے رب ! تو اس پر آسمان سے برکتیں نازل کر اور دشمنوں کے شر سے اس کو محفوظ رکھ اور جہاں کہیں وہ ہو، تو بھی اس کے ساتھ ہو۔اور دنیا و آخرت میں اس پر رحم فرما۔اے ارحم الراحمین آمین ثم آمین۔تمام تعريف اولاً وآخراً و ظاهراً وباطنا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے وہی دنیا و آخرت میں میرا والی ہے۔اسی کے کلام نے مجھے بلوایا اور اسی کے ہاتھ نے مجھے ہلایا۔سو میں نے مسودہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اشارے اور لقاء سے لکھا ہے۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " ( ترجمه و تلخیص از عربی حصہ آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 584 تا589) آپ " برکات الدعا" میں تحریر فرماتے ہیں۔۔" پر جوش مردان دین سے مراد اس جگہ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی ہیں۔جنہوں نے گویا اپنا تمام مال اسی راہ میں لٹا دیا ہے۔" برکات الدعاء از روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 35 حاشیہ) آپ "ستر الخلافہ " میں تحریر فرماتے ہیں۔" میرے دوستوں میں ایک دوست سب سے محبوب اور میرے محبوں میں سب سے زیادہ مخلص، فاضل، علامہ، عالم رموز کتاب مبین ، عارف علوم الحکم والدین ہیں جن کا نام اپنی صفات کی طرح مولوی حکیم نورالدین ہے۔" _^ ( ترجمه از عربی سرالخلافہ از روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 381) آپ " حمامتہ البشرا ی" میں تحریر فرماتے ہیں۔" میرے سب دوست متقی ہیں لیکن ان سب سے قوی بصیرت اور کثیر العلم اور زیادہ تر