جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 425
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 425 تبلیغ کرنے کی غرض سے اس کے دفتر میں تشریف لے جانے لگے تو ساتھ نمائندگی کے لئے ایک اور شخص کو جانے کی ذمہ داری سونپی گئی اور خاکسار کے ذمہ لگایا گیا کہ حضرت صاحب کے ساتھ دوسرا شخص کون جائے تو میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے عرض کیا کہ میاں صاحب آپ حضور کے ساتھ تشریف لے جائیں اس طرح دونوں اکھٹے وہاں تشریف لے گئے اور پوپ کو قرآن مجید اور اسلام کے بارے میں بتایا اور پوپ نے مطالعہ کے لئے ایک سال کی مدت کا وعدہ کیا۔9اور 10 رجون 1982ء کو خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ حضرت خلیفہ المسح الثالث (رحمہ اللہ ) کھڑے ہیں پاس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں اور خاکسار اور خاکسار کی اہلیہ بشر کی ساتھ ہیں۔اتنے میں حضرت خلیفتہ امیج الثالث (رحمہ اللہ ) نے اپنی پگڑی اتاری اور پکڑ کر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے سر پر رکھ دی اور فرمایا یہ تم سنبھالو ہم تو چلتے ہیں ہم وہاں کھڑے ہوتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) ننگے سر روانہ ہو جاتے ہیں اور جاتے ہوئے فرماتے ہیں ہم نے یہاں کیا لینا ہے وہاں ہی چلتے ہیں۔اس نظارے کے بعد حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی اور جو دعا کرنے کی حالت حضرت صاحبزادہ صاحب کی تھی وہ ایسی تھی جسے کہا جاتا ہے کہ دعا ایک موت چاہتی ہے یعنی آپ دعا کرتے کرتے خدا تعالیٰ میں غرق ہونے والی حالت پیدا کر لیتے ہیں اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔( تاریخ تحریر 10 جون 1982ء)