جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 404
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے -i مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب دار الرحمت غربی ربوہ 404 19 مئی 1982ء کو ابھی جب حضرت خلیفہ امسیح الثالث (رحمہ اللہ) اسلام آباد نہ گئے تھے۔یہ خواب دیکھا کہ ایک اونچا مثل سا ہے۔جس کے دروازہ کے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کھڑے ہیں۔چہرہ بہت روشن اور چمک رہا ہے۔میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔اتنے میں دیکھتا ہوں کہ کچھ براتی۔دروازہ میں سے محل کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی نئی شادی کے براتی ہیں۔ii۔( تاریخ تحریر 10 جولائی 1982ء) مورخہ 19 جون 1982ء کو انتخاب خلافت سے ایک دن قبل دن کے دس اور گیارہ بجے کے درمیان آنکھ لگ گئی تو میں نے رویا میں انتخاب خلافت کے اجلاس کا نظارہ دیکھا کہ ایک چھوٹاسا کمرہ ہے اس میں فرش پر دریوں پر ہی احباب بیٹھے ہیں۔ان میں نمایاں طور پر میں نے حضرت صوفی غلام محمد صاحب ( ناظر بیت المال خرچ ) کو وہاں بیٹھے دیکھا۔یکا یک یہ محسوس ہوا کہ ان کے بیٹے مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب خلیفہ منتخب ہو گئے ہیں۔پھر دیکھا کہ مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب میرے پاس کھڑے ہیں اور میں اس وقت خواب میں ان کا نام "احمد علی " سمجھتا ہوں انہوں نے ایک نوٹ بک خاکسار کو دکھائی اور کہنے لگے یہ دیکھیں حضرت خلیفہ مسیح الثالث (رحمہ اللہ) پہلے ہی خلیفہ نامزد کر گئے تھے۔چنانچہ نوٹ بک کا ایک صفحہ انہوں نے مجھے دکھایا۔اس پر اس طرح عبارت لکھی تھی "احمدعلی " اس پر میں بڑا خوش ہوا کہ یہ تو واقعی آپ کی تقرری کی واضح عبارت ہے یا پیش گوئی ہے۔اسی وقت میں مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب کو واقعی خلیفہ امسیح الرابع سمجھتا ہوں اور حضور حضور کر کے ان سے مخاطب ہوتا ہوں۔پھر وہ ادھر ادھر جاتے ہیں۔میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی ہوں کہ دیکھا کہ ایک جگہ