جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 392 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 392

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے -i ۶۵ مکرم مرزا منیر بیگ صاحب صدر حلقہ ایف سیون اسلام آباد 392 میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں میں نے 27 فروری1982ء کو خواب دیکھا۔کہ کوئی شخص حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کے مقابل پر کھڑا ہو گیا ہے۔اور لوگ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد بھی ووٹ ڈالنے کے لئے دوڑ رہے ہیں محسوس کرتا ہوں جیسے انتخاب ہو رہا ہے۔میں بھی ووٹ ڈالنے کے لئے دوڑتا ہوں۔وسیع میدان ہے۔کچی زمین ہے۔ایک بڑا برآمدہ جس کے پیچھے دو کمرے ہیں۔برآمدہ کی چھت کچی ہے شہتیروں میں سے کچھ گھاس بھی لٹک رہی ہے۔انہی کمروں سے ووٹ کی پرچی بنتی ہے جب میں برآمدہ کے قریب پہنچتا ہوں تو کمرہ میں سے حضرت میاں طاہر احمد صاحب برآمد ہوتے ہیں۔آپ کے ہاتھ میں ایک فل سائز پر چہ ہے۔مجھے دیکھتے ہی محبت سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ نے ووٹ نہیں دیا۔یا نہیں ڈالا۔میں عرض کرتا ہوں کہ میں بس حضور کے پیچھے آرہا ہوں۔بس پر چی لے کر آیا۔آپ برآمدہ کے دوسرے کمرہ میں تشریف لے جاتے ہیں۔اُس کے بعد آنکھ کھل جاتی ہے۔وقت دیکھتا ہوں تو سحری کے تین بجے ہوتے ہیں پھر میں اپنی اہلیہ کو جگا کر خواب سنا تا ہوں۔-ii 17 جون 1982 ء کو خواب میں دیکھا کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب ایک بہت بڑے ہال میں تقریر فرما رہے ہیں۔دوران تقریر آپ میرے بڑے بھائی مرزا اسلم بیگ کا نام لے کر کہتے ہیں کہ میرے اُن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ہم سب لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں میرا چھوٹا بھائی ڈاکٹر امین بیگ جو آج کل امریکہ میں ہے۔کسی کے ساتھ کچھ بات کر تا ہے تو میں اُسے "شی" کر کے روکتا ہوں۔اور کہتا ہوں کہ حضور کی تقریر سنو۔اُس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔حضور کہہ کر دونوں خوابوں میں مخاطب کرنے والی بات۔حضرت صاحبزادہ