جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 37
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے آپ " ازالہ اوہام " میں تحریر فرماتے ہیں۔37 " ان کے مال سے جس قدر مجھے مددپہنچی ہے میں اس کی کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر ایک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے بچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے۔۔۔۔میں یقینا دیکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو، جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ان کو خدا تعالیٰ نے قومی ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔اور طاقت بالا نے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے۔انہوں نے ایسے وقت میں بلا تر ڈر مجھے قبول کیا جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے سست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعوئی کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔آمَنَّا وَصَدَّقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں۔" (ازالہ اوہام از روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 521-520) آپ " آئینہ کمالات اسلام " میں تحریر فرماتے ہیں۔مسلمانوں کا فخر ہیں اور آپ کو قرآنی دقائق کے استخراج اور حقائق فرقان کے خزانوں کی اشاعت میں عجیب ملکہ حاصل ہے بے شبہ آپ مشکوۃ نبوت کے انوار سے منور ہیں اور اپنی شان اور پاک طینتی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور سے نور لیتے