جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 349
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 349 لئے تراویح پڑھ کر 17/16 اکتوبر 1973 ء کی درمیانی شب بمقام خانیوال ابھی سویا ہی تھا کہ کسی نے یہ پریشان کن خبر دی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث (رحمہ اللہ ) وفات پاگئے ہیں پریشانی اور گھبراہٹ میں مجھے سب سے پہلے نظام خلافت کی فکر ہوئی اور میں نے فوراً گھبراہٹ میں پوچھا کہ اب خلیفہ کون ہوئے ہیں جواب ملا کہ میاں طاہر احمد صاحب اس پہلو سے اطمینان ہوا مگر حضرت خلیفہ مسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کے فراق میں زار زار رونے لگا اسی سوز و غم میں روتے روتے میری آنکھ کھل گئی۔۲۰ مکرمہ نصرت صاحبہ بنت صوبیدار عالم اعوان صاحب منڈی بہاؤالدین غالباً 1974ء میں مہینہ یاد نہیں۔ایک رات نفل پڑھنے کے بعد میں سوئی تو خواب میں دیکھا کہ میں نے کسی بہت بڑی دعوت کا انتظام کیا ہے۔اور میں بے شمار مہمانوں کی آمد کا انتظار کر رہی ہوں۔اس ہجوم میں حضرت خلیفہ امسح الثالث ( رحمہ اللہ ) اور حضور کی حرم محترمہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بھی ہمراہ ہیں۔حضور مجھ سے فرماتے ہیں " آج ہم آپ سب میں موجود ہیں۔آپ کے بلانے پر ہم آئے ہیں مگر پھر شاید ہم ایسا جس طرح آپ کے گھر آئے ہیں۔موقع نہ ہو " میں نے شرارت سے کہا اے ہمارے پیارے والد ! آپ نہ ہوں گے تو پھر کون ہوگا ؟ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کچھ دیر میری طرف دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا " طاہر " اس سے آگے حضور کچھ نہ بولے۔پھر حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے فرمایا