جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 335 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 335

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے مکرمہ امتہ الرشید بیگم صاحبہ دار البرکات ربوہ 335 خدائے قدوس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے عرض کرتی ہوں کہ 1940ء میں میں نے ہاتف غیبی کی نہایت صاف اور بڑی اثر انگیز آواز سنی۔خلیفة امسح حضرت میاں طاہر احمد صاحب ہوں گے " میرے مرحوم میاں ان دنوں انبالہ چھاؤنی میں ریلوے ملازم تھے۔انہیں میں نے یہ بات بتا کر اپنے محبوب امام حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی بارگاہ میں بذریعہ ڈاک یہ سب واقعہ لکھ بھیجا۔جس کا جواب حضور کی طرف سے یہ موصول ہوا کہ خلیفہ کی موجودگی میں ایسے رویا وکشوف صیغہ راز میں رہنے چاہیے اور تشہیر نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ خلافت ثالثہ کے قیام کے موقع پر میں یہی سمجھی کہ شاید میاں طاہر احمد صاحب سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ ہمیں ایسا خلیفہ عطا ہو جو طاہر اور مطہر ہو۔اب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے انتخاب پر معاملہ صاف ہو گیا۔خدا کا کہنا پورا ہوا اور روح جھوم اٹھی الحمد للہ ثم الحمد للہ۔مکرم برکت علی منگلی صاحب دار الرحمت غربی ربوہ اس عاجز نے 1945ء میں ایک خواب دیکھا تھا۔ان دنوں خاکسار جماعت احمدیہ چک P/106 رحیم یار خان کا صدر تھا۔خواب میں میں قادیان میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے باغیچہ کی غربی طرف سڑک کے غربی کنارے پر شرقی طرف رخ کر کے کھڑا ہوں۔