جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 326
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 326 اگر میں کبھی کچھ کوتاہی کرتا تو بڑے افسوس اور حیرت سے کہتیں کہ طاری ! تم میرے ایک ہی بیٹے ہو میں نے خدا سے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے بھی یہی دعا کرتی تھی کہ اے میرے رب مجھے ایسا لڑکا دے جو نیک ہو اور میری خواہش ہے کہ تم نیک بنو اور قرآن شریف حفظ کرو۔اب تم نمازوں میں تو نہ کو تا ہی کیا کرو۔مگر جب میں نماز پڑھ لیتا تو میں دیکھتا کہ اُمی کا چہرہ وفور مسرت سے تمتما اٹھتا اور مجھے بھی تسکین ہوتی۔پھر مجھے اکثر کہتیں طاری! قرآن کریم کی بہت عزت کیا کرو۔" مجھے اللہ دیجیے (الفضل 14 اپریل 1944ء) بچپن میں حضرت مرزا طاہر احمد کا مطالبہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب معالج خصوصی حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ بتایا کہ صاحبزادہ میاں طاہراحمد صاحب کا ایک عجیب واقعہ میں تازیست نہ بھولوں گا۔1939ء کی بات ہے کہ حضرت مصلح موعود ( نوراللہ مرقدہ ) دھرم مسالہ میں قیام پذیر تھے اور جناب عبدالرحیم صاحب نیر بطور پرائیویٹ سیکرٹری حضور کے ہمراہ تھے۔ایک دن نیر صاحب نے اپنے خاص لب ولہجہ کے ساتھ کہا کہ میاں طاہر احمد آپ نے یہ بات نہایت اچھی کہی ہے جس سے میرا دل بہت خوش ہوا ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو کچھ انعام دوں۔جتلائیں آپ کو کیا چیز پسند ہے تو اس بچہ نے جس کی عمر اس وقت ساڑھے دس سال تھی برجستہ کہا اللہ " نیر صاحب حیران ہو کر خاموش ہو گئے۔میں نے کہا نیر صاحب! اگر طاقت ہے تو اب میاں طاہر احمد کی پسندیدہ چیز دیجئے۔مگر آپ کیا دیں گے اس چیز کے لینے کے لئے تو آپ خود ان کے والد کے قدموں میں بیٹھے ہیں۔(تابعین اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 263-262)