جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 210
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 210 تعلق محبت تھا اور مجھے ان پر بڑا احسن ظن تھا۔حضرت خلیفہ ثانی کے خلاف مسئلہ اسمۂ احمد کے متعلق مولوی عزیز بخش صاحب کی بعض باتیں سن کر میں ان کا ہم خیال ہوا۔اور حضرت خلیفہ ثانی کی تفسیر کو میں غلط سمجھنے لگا۔تب اللہ تعالیٰ نے میری اس طرح دستگیری کی کہ مجھے ایک رؤیا میں دکھایا کہ میں اور مولوی محمد علی صاحب اور ہمارے ہم خیال کوئی ہیں آدمی جمع ہیں۔اچانک حضرت مسیح موعود مرز اصاحب تشریف لائے۔ہم سب ان سے ایسے ہی ملے جیسے کہ کوئی بہت شرمندہ ہوتا ہے۔تب حضرت نے مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا "میرا پیارا بچہ بشارت اللہ و بشارت الرسول کی مخالفت کرنی معصیت نہیں تو اور کیا ہے " اور بھی کچھ گہر کی بابت اس طرح فرمایا : کہ آپ نے اس حکمت کو نہیں پہنچانا۔مگر وہ لفظ صحیح طور پر مجھے یاد نہیں۔مکرر آنکہ میں رو رو کر خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہتا تھا کہ مجھ پر حق کھولا جائے اور ایک شب خصوصیت کے ساتھ بہت دعا کی اسی شب یہ خواب دیکھا۔" ☆۔۔۔(الفضل 25 / مارچ 1916ء) ۶۷ مکرم سراج الدین صاحب آف مرا دوال کے دو خواب احمدیت کو سچ سمجھنے کے بعد میں متذبذب تھا۔کہ احمدیوں کی کون سی جماعت سچی ہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔دو خوا ہیں یکے بعد دیگرے دیکھیں جو درج ذیل ہیں۔ایک غیر آباد نہر کے بیچوں بیچ جارہا ہوں۔حضور بھی اسی نہر کے کنارے گھوڑے پر سوار چند پیدل دیہاتیوں کی معیت میں اس طرف جارہے ہیں۔جدھر میرا رخ ہے۔میرے -i