جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 196
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 196 ( بیت الذکر ) سے اُٹھ کر باہر چلا۔اکبر شاہ خاں نجیب آبادی میرے دوست تھے۔پوچھنے لگے کہاں چلے ہو۔بیعت کر لو۔میں نے کہا ذرا باہر جا رہا ہوں۔وہاں سے چھوٹتے ہی سیدھا اسٹیشن پر آیا۔گاڑی میں سوار ہوا۔راستے میں تین باتیں دماغ میں آئیں۔ا۔مجھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیعت سے بہت دیر پہلے خبر دار کیا تھا۔کہ میرا بیٹا اسماعیل ہے۔کنعان بن نوح نہیں۔یہ سچا ہوگا۔خبر داراس کی متابعت سے سرنہ پھیرنا۔حضرت مولوی صاحب کو اہل پیغام مجبور کرتے رہے کہ اپنے بعد خلیفہ مقرر فرما دیں۔حضور یہی فرماتے رہے خلیفہ بنانا میرا کام نہیں۔خلیفہ خود خدا بناتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا خلیفہ بنا دیا۔اہل شیعہ کو ہم اسی وجہ مطعون کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنا دیا۔میں نے گھر پر پہنچتے ہی سب سے پہلا کام جو کیا وہ پہلے گناہوں کی تو بہ اور بیعت خلافت کے لئے خط تھا جو حضور کی خدمت میں گیا۔" (الفضل 29 اگست 1956ء) ۵۸ مکرم خورشید احمد صاحب امیر ضلع رحیم یارخاں کا خواب "15 /اکتوبر 1944 ء کو رویا میں دیکھا۔کہ ایک بارہ تیرہ سالہ نوجوان خوبصورت نے میری روح قبض کرلی۔فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خانہ کعبہ کے برآمدہ میں ایک دو بازؤں والی کرسی پر بیٹھ گئے۔حضور کے دونوں پاؤں کے درمیان میں سجدہ کی حالت میں ہوں۔حضور