جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 195 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 195

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 195 لہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔اتنے میں ایک نو عمر نو جوان تشریف لائے جن کے چہرہ مبارک پر سبزہ کا آغا ز تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا۔آپ نے فرمایا! ایادرکھ یہ میرا بیٹا اسماعیل ہے۔پھر جاگ آگئی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دو خوابوں اور نشانات دیکھ کر مارچ 1908ء میں بیعت کی۔اس وقت میں لاہورایس وی کلاس میں پڑھتا تھا۔مولوی محمد علی صاحب اظہر اور مولوی برکت علی صاحب لائق میرے ہم جماعت تھے۔میں قادیان نہیں گیا تھا۔حضور نے 26 مئی 1908ء کو وفات پائی۔مولوی محمد علی صاحب اظہر اور بندہ دونوں جولائی 1908ء میں قادیان گئے ( محمد علی اظہر صاحب اور میں دونوں ایک سکول میں مدرس لگ گئے تھے ) وہاں بیت المبارک میں عصر کی نماز کے وقت حضور تشریف لائے ، وہی سبزہ کا آغاز تھا وہی حسن و حیاء۔مولوی محمد علی صاحب اظہر نے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب کے بیٹے میاں محمود ہیں۔میری نظر میں ہو بہو وہ خواب والی حضرت اسماعیل کی شکل آگئی۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت کی۔1912-13ء میں میں لائل پور میں ایک پرائمری سکول میں مدرس تھا۔"پیغام صلح" میرے نام آتا تھا۔کہ اچانک "خلیفہ کی ضرورت نہیں" کا ٹریکٹ پہنچا۔اس سے تیسرے چوتھے دن اخبار میں نکل آیا کہ "ہائے نور الدین چل بسا اس کے بعد تو اخبار میں زور وشور سے خلافت اور حضور کے خلاف لکھا جانے لگا۔اخبار کے زہریلے پراپیگنڈے کے اثر سے دو سال بیعت نہ کی۔ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کے لئے لاہور گیا۔مولوی صاحب ایبٹ آباد گئے ہوئے تھے۔دوسری دفعہ گیا شام کو درس القرآن ہورہا تھا۔درس کے بعد الفضل آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خواجہ کمال الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب اور کئی اصحاب تھے وہ حضور کے خلاف ایسی باتیں کر رہے تھے کہ مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی۔حالانکہ میں گیا ہی بیعت کے لئے تھا۔